اعظم طارق کے قتل میں ملوث ملزم سبطین کاظمی گرفتار

سبطین تصویر کے کاپی رائٹ FIA

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ اعظم طارق کے قتل میں ملوث ملزم سبطین کاظمی کو اسلام آباد کے ہوائی اڈے سے گرفتار کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ اعظم طارق کو اکتوبر سنہ 2003 میں اسلام آباد کی حدود میں کشمیر ہائی وے پر اس وقت قتل کیا گیا جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جھنگ سے پارلیمنٹ ہاؤس جا رہے تھے۔

اس واقعے میں ان کا ڈرائیور اور تین محافظ بھی مارے گئے تھے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ملزم سبطین کاظمی جمعرات کو قطر ایئرلائن کی پرواز سے برطانیہ کے شہر مانچسٹر جا رہے تھے کہ مصدقہ اطلاعات ملنے پر امیگریشن کاؤنٹر پر تعینات عملے نے اُنھیں کاغذات چیک کرنے کے بہانے روک لیا۔

اس کے بعد حکام نے اس مقدمے کے متعلقہ تھانے گولڑہ کی پولیس کو اطلاع دی جنھوں نے ملزم کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

ملزم سبطین کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا تعلق تحریک جعفریہ پاکستان سے ہے اور اس مقدمےمیں وفاقی حکومت نے ان کی گرفتاری پر دس لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کر رکھا تھا۔

اعظم طارق سمیت پانچ افراد کے قتل کا مقدمہ تین افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا تاہم اس میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی تھی۔

یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بھی بھجوایا گیا تھا تاہم اس مقدمے کی تفتیش میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے اسے داخل دفتر کر دیا گیا تھا۔

ایف آئی اے کے حکام کے مطابق اعظم طارق کے قتل کے بعد ملزم سبطین کاظمی بیرونِ ملک فرار ہوگئے تھے اور گذشتہ برس سے برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں مقیم تھے۔

حکام کے مطابق ملزم نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست بھی دی تھی جس کے بعد انھیں برطانیہ میں قیام کا اجازت نامہ مل گیا تھا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سبطین اس سے پہلے بھی دو مرتبہ پاکستان آ چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں