'عالمی عدالت کا دروازہ باہمی رضامندی سے ہی کھلتا ہے'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’اگر پاکستان عدالت کے سامنے پیش نہ ہوا تو اس سے اس کے لیے مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں‘

بھارت کی حکومت نے بھارتی شہری کلبھوشن جادھو کو پاکستان میں دہشتگردی کے الزامات کے تحت سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے پر عمل درآمد کو رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکٹایا ہے۔

قانونی ماہرین کی رائے میں عالمی عدالت انصاف کا دروازہ دونوں ممالک کی باہمی رضامندی سے ہی کھل سکتا ہے اور جب پاکستان نے سترہ برس پہلے بھارت کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع کیا تھا تو عدالت نے مقدمہ سننے سے انکار کر دیا تھا۔

عالمی عدالت انصاف نے بھارت کی جانب سے دائر ہونے والی درخواست کی تصدیق کرتے ہوئے اسے پندرہ مئی کو ابتدائی سماعت کے لیے مقرر کیا۔

کلبھوشن پر انڈین درخواست کی سماعت 15 مئی کو

پاکستانی وکلا کی رائے میں جو بھی ملک عالمی عدالت انصاف کا ممبر ہے وہ اپنے کسی بھی معاملے کو عدالت میں اٹھا ضرور سکتا ہے لیکن اس کی سماعت کا دارومدار دوسرے ملک کی رضامندی پر ہے۔

پاکستان سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اور ممتاز قانون دان اکرم شیخ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن جادھو کی سزا کا معاملہ عالمی عدالت انصاف کے اختیارِ سماعت میں نہیں آتا۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی عدالت کا اختیار سماعت اس وقت بنتا ہے جب دونوں ممالک اس مقدمے کی سماعت پر راضی ہوں۔ ایک جانب سے عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کی صورت میں عدالت مقدمہ سننے سے معذوری ظاہر کرتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا عالمی عدالت انصاف کا موقف واضح ہے کہ جب تک دونوں ملک اس پر رضامند نہیں ہوں گے وہ کسی مقدمے کی سماعت نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ 1999 میں بھارت کے جنگی طیاروں کی جانب سے پاکستان نیوی کے ایک جہاز کو مار گرایا تھا جس میں نیوی کے 16 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان نے اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں اٹھایا تھا۔ پاکستان کا موقف تھا کہ بھارت کے جنگی جہازوں نے ایک غیر مسلح طیارے کو مار گرایا ہے جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

بھارت کی جانب سے عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا گیا اور عدالت کے سولہ رکنی بینچ نے اپنے ایک منقسم فیصلے میں اس مقدمے کو نہ سننے کا اعلان کیا تھا۔ سولہ رکنی بینچ کے چودہ ججوں کا موقف تھا کہ یہ معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے جبکہ دو ججوں نے مقدمہ سننے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

قانون دان اکرم شیخ نے کہا کہ کلبھوشن جاھیو کو جاسوسی نہیں بلکہ دہشتگردی کے الزام میں ملکی قانون کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔

پاکستان کے ایک اور نامور قانون دان بیرسٹر خالد جاوید خان کے مطابق عالمی عدالت انصاف کا دائرہ اختیار دونوں ممالک کی باہمی رضامندی سے شروع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے البتہ واضح کیا کہ پاکستان کو عالمی عدالت انصاف کے سامنے اپنا موقف ظاہر کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان عدالت کے سامنے پیش نہ ہوا تو اُس کے لیے مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں