’لوگوں نے چٹائیاں ڈالی ہوئی ہیں لیکن پھر بھی پتھر جسم میں چبھتے ہیں‘

چمن پناہ گزین کیمپ

پاکستان کی افغانستان سے متصل سرحدی علاقے چمن میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد حکومت نے سرحد سے چھ کلومیٹر دور ایک کیمپ لگایا ہے۔

پرانے چمن میں قائم اس کیمپ میں دوپہر کے ایک بجے جب آس پاس کے تقریباً تمام خیموں میں لوگ کھانا کھا رہے تھے تو رخسانہ اپنے خیمے میں جھنجھلائی بیٹھی تھیں۔

میرے استفسار پر انھوں نے ایک ٹوکرے میں رکھی روٹی کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 'دیکھو یہ تین دن پرانی روٹی ہے۔ توا نہیں ہے کہ جس سے ہم روٹی بنا لیں۔ لڑائی کی وجہ سے ہم نے اپنا بھرا پرا گھر چھوڑ دیا ہے۔ یہ (بچے) سب روتا ہے کہ ہمارا کیا حال ہو گیا ہے۔ میں کہتی ہوں کہ میں کیا کروں، میں ادھر پہاڑوں میں تمھارے لیے کیا لاؤں؟ ادھر تو کوئی چیز نہیں ملتی اور پیسے بھی نہیں ہیں۔'

٭ چمن کے سرحدی گاؤں پر گولہ باری

رخسانہ اپنے پانچ بچوں اور ساس کے ہمراہ چار روز قبل چمن کے دیہات لقمان کلے سے اس کیمپ میں آئی تھیں۔ گھر کے واحد کفیل ان کے شوہر ہیں جو مزدوری کی غرض سے سرحد پار جایا کرتے تھے لیکن حالیہ سرحدی بندش کے بعد سے وہ گھر نہیں لوٹے۔ وہ روہانسی ہو کر بتانے لگیں کہ 'اب تک کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی کچھ پتہ لگتا ہے کہ زندہ ہے کہ نہیں ہے۔'

اسی کیمپ میں میری ملاقات 13 سالہ فاطمہ اور ان کی بہن امینہ سے بھی ہوئی جو بھائی بہنوں کی بیماری سمیت اپنا تعلیمی سلسلہ ٹوٹ جانے پر پریشان تھیں۔ حال احوال پوچھا تو بتانے لگیں کہ 'آٹا اور گھی دیا ہوا ہے لیکن پتیلا نہیں ہے۔ یہاں رہنے کے لیے تو پورے گھر کا سامان چاہیے۔ بستر نہیں ہے صرف چٹائی بچھا کے بیٹھے ہیں۔ دن میں گرمی، رات میں سردی ہے۔ چھوٹے چھوٹے سارے بچے بیمار ہیں۔ ہم ساتویں کلاس میں پڑھتے ہیں۔ ہم بہت پریشان ہیں ادھر سکول بھی نہیں ہے ہم کدھر پڑھیں۔'

نیک محمد کو شکوہ تھا کہ لوگوں کو پینے کا پانی دستیاب نہیں۔ اس کے علاوہ باتھ روم اور واش روم کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی کہ کم از کم انھیں کیمپ میں رہنے کے لیے بنیادی سہولتیں تو فراہم کر دی جائیں۔'

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مقرر کردہ کیمپ کے منتظم محمد حنیف یار نے بتایا کہ اس کیمپ میں 71خیمے ہیں جس میں 265 افراد مقیم ہیں۔

محمد حنیف یار کے مطابق 'اصل متاثرہ افراد رشتے داروں اور عزیز و اقارب کے گھروں کو چلے گئے۔ کیمپ میں مقیم افراد بھی متاثرہ ہیں اور ہم پانی اور خوراک سمیت تمام ضروری اشیا فراہم کر رہے ہیں۔'

واضح رہے کہ پاکستان کے افغانستان سے سرحدی علاقے چمن میں مردم شماری کے دوران افغان فورسز کی گولہ باری میں 12 افراد کی ہلاکت کے بعد بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر حکومت پاکستان نے سرحدی دیہات کو خالی کروا لیا تھا۔ ان افراد کے لیے چند کلومیٹر دور ایک کیمپ قائم کیا گیا لیکن چند افراد کے علاوہ کسی نے بھی کیمپ کا رخ نہیں کیا۔ اکثر و بیشتر اپنے رشتے داروں کے گھروں میں منتقل ہو گئے ہیں۔

اس کیمپ کی صورتِ حال دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ درست تھا کیونکہ پتھریلی زمین پر نصب کئے گئے ان کیمپوں میں دن رات گزارنا انتہائی مشکل ہے۔ لوگوں نے پلاسٹک کی چٹائیاں ڈالی ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود پتھر جسم میں چبھتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے سخت دھوپ میں اسی پتھریلی زمین پر ننگے پیر کھیلتے نظر آتے ہیں۔

ان دیہات کی طرف جانے والے راستوں پر بھی عجیب و غریب مناظر دیکھنے کو ملے۔ بعض افراد ایک جنازہ اٹھائے ایک بند سکیورٹی گیٹ تک پہنچے۔ کافی بحث کے بعد انھیں گزرنے کی اجازت دے دی گئی۔ انھی کے پیچھے دو خواتین دو بچوں کو لیے بھاگتی دوڑتی نظر آئیں جبکہ ایک شخص ہاتھ سے چلنے والا ٹرالر گھسیٹتے ہوئے اسی مقام تک پہنچا لیکن یہ سب نامراد لوٹے۔

معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہ افراد کلے سلیمان میں اپنےگھر سے کچھ سامان اٹھانے کے لیے جانا چاہتے تھے۔ اجازت نہ مل سکی تو تپتی دھوپ میں ایک دیوار کا سہارا لے کر بیٹھ گئے۔

مقامیوں کے مطابق چمن سرحد بند ہونے کی وجہ سے سارا کاروباری نظام خسارے کا شکار ہو گیا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر گئے ہیں۔ اس وقت کیمپ میں بسنے والے افراد سمیت مریض، مزدور اور کاروباری افراد سبھی سخت فکرمند ہیں کہ نجانے کب سرحد کھلے گی اور وہ اپنے گھر یا منزل کی جانب جا سکیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں