مستونگ: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے قافلے کے قریب دھماکے میں 25 افراد ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
مستونگ دھماکے میں ہلاکتیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ بالا کے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے کے قریب دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکہ جمعے کی دوپہر مستونگ میں اس وقت ہوا جب جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمان گروپ) سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالغفور حیدری نماز کی ادائیگی کے بعد روانہ ہوئے تھے۔

مستونگ کے ضلعی ہیلتھ افسر ڈاکٹر شیر احمد ساتکزئی نے بی بی سی اردو کے محمد کاظم کو بتایا ہے کہ دھماکے میں اب تک 25 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 35 افراد زخمی ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومتِ بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکڑ کے مطابق اس واقعے میں عبدالغفور حیدری بھی معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

دھماکے میں عبدالغفور حیدری کی گاڑی بھی تباہ ہوئی ہے تاہم حکام نے تاحال اس کی نوعیت کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

ڈی ایچ او مستونگ کے مطابق مولانا حیدری کو معمولی خراشیں آئی ہیں اور انھیں سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

دیگر زخمیوں کا علاج مستونگ کے ضلعی ہسپتال اور رئیسانی ہسپتال میں جاری ہے جبکہ شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکومتِ بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکڑ کے مطابق اس واقعے میں عبدالغفور حیدری بھی معمولی زخمی ہوئے ہیں

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی لیویز اور ایف سی کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

مستونگ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے اوراس ضلعے میں سکیورٹی اہلکاروں کو کئی بار نشانہ بنایا گیا ہے۔

بلوچستان میں ماضی میں بھی جے یو آئی کے رہنماؤں پر حملے ہو چکے ہیں۔

اکتوبر 2014 میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں اس جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی گاڑی پر خودکش حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے تاہم وہ محفوظ رہے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں