عدالت میں تصویر بنانے پر انڈین سفارت کار کے موبائل کی ’ضبطگی‘

انڈین سفارت کار پیوش سنگھ

پاکستان میں تعینات انڈین ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکریٹری پیوش سنگھ کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں موبائل سے تصویر بنانے پر ان کا فون ضبط کر لیا گیا۔

انڈین سفارت کارت اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمعے کو انڈین لڑکی عظمیٰ کی وطن واپسی کے بارے میں درخواست کی سماعت سننے کے لیے آئے تھے۔

میرے ساتھ زبردستی ہوئی ہے، واپس نہیں جاؤں گی: ڈاکٹر عظمیٰ

انڈین خاتون نے ہائی کمیشن سے خود رابطہ کیا: دفترِ خارجہ

درخواست کی ابتدائی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں جاری تھی کہ اس دوران پیوش سنگھ نے سماعت کرنے والے جج کی تصویر کھینچ لی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کے باہر تعینات پولیس اہلکار نے انڈین سفارت کار کو ایسا کرنے سے روکا تاہم عدالتی حکم پر پیوش سنگھ سے ان کا موبائل چھین لیا گیا۔

اس موقع پر پیوش سنگھ نے شور مچایا اور کہا کہ وہ ایک سفارت کار ہیں اور ان سے موبائل فون نہیں چھینا جا سکتا جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

انڈین سفارت کار نے وکیل کے کہنے پر عدالت سے زبانی معافی مانگی جسے عدالت نے قبول نہیں کیا جس کے بعد انڈین سفارت کار نے تحریری طور پر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی۔

عدالت کے حکم پر انڈین سفارت کار نے پولیس اہلکار کی موجودگی میں اپنے موبائل سے جسٹس محسن اختر کیانی کی تصویر کو حذف کیا جس کے بعد عدالتی حکم پر انڈین سفارت کار کا موبائل فون واپس کر دیا گیا۔

انڈین لڑکی عظمیٰ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار گیا ہے کہ چونکہ عظمیٰ وطن واپس جانا چاہتی ہے تاہم اس کے سفری دستاویزات اس کے پاکستانی شوہر طاہر علی نے زبردستی چھین لی ہیں۔

اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت پاکستانی وزارت خارجہ کو حکم دے کہ وہ ڈاکٹر عظمیٰ کی سفری دستاویزات کی نقل جاری کرے تاکہ وہ انڈیا میں اپنی بیمار بیٹی سے ملنے جا سکیں۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت طاہر علی کو انڈین لڑکی عظمی کو ہراساں کرنے سے روکے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس درخواست پر وزارت خارجہ اور طاہر علی سے22 مئی کو جواب طلب کر لیا ہے۔

اسی بارے میں