چیف جسٹس کا بحریہ انکلیو میں ٹی وی پروگرام کے دوران حادثے کا نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan
Image caption چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بحریہ انکلیو میں سٹیج گرنے کے واقعے کے 14 روز بعد اسلام آباد انتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے۔

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے گذشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران سٹیج گرنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے 48 گھنٹوں میں چیف کمشنر اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس سے جواب طلب کر لیا ہے۔

٭ریکارڈنگ کے دوران سٹیج گرنے سے متعدد افراد زخمی

خیال رہے کہ 28 اپریل کو دارالحکومت اسلام آباد میں ایک مقامی ٹی وی چینل اے آر وائی زندگی کے پروگرام ’عیدی سب کے لیے‘ کی ریکارڈنگ ایک نجی رہائشی سوسائٹی بحریہ انکلیو میں کی جا رہی تھی کہ اس دوران پروگرام کے لیے بنایا گیا سٹیج گر گیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق چیف جسٹس نے میڈیا رپورٹس پر نوٹس لیا ہے جن کے مطابق سٹیج حادثے میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

پریس ریلیز کے مطابق زخمیوں کو امداد فراہم کرنے کے بجائے انتظامیہ کے بہت سے لوگ جائے وقوعہ سے بھاگ گئے اور وہاں بجلی کی فراہمی معطل کر دی گئی جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں دشواری پیش آئی۔

’اطلاعات کے مطابق زخمیوں کو مناسب طبی امداد فراہم نہیں کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ اسلام آباد انتظامیہ اس سارے معاملے میں خاموش تماشائی بنی رہی اور ایسے لگتا ہے کہ اس کی جانب سے قانونی چارہ جوئی سے اجتناب برتا گیا۔‘

حکام کے مطابق اس پروگرام میں 100 کے قریب افراد موجود تھے جن میں سے 70 زخمی ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARY ZINDAGI FACEBOOK

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں