دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو: چین میں سال کا سب سے بڑا سفارتی اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف گذشتہ روز چاروں وزرائے اعلیٰ کے ہمراہ بیجنگ پہنچے تھے۔

چین میں اتوار کو 'دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو' کے دو روزہ اجلاس کا آغاز ہو رہا ہے جس میں 130 ممالک سے 1500 مندوبین شریک ہو رہے ہیں۔ اس اجلاس میں 29 سربراہان مملکت بھی شریک ہوں گے۔ اہم سربراہان میں روسی صدر ولادی میر پوتن ہیں اور ان کے علاوہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف بھی شرکت کے لیے چین پہنچ گئے ہیں۔

'سی پیک سے کشمیر پر چین کا موقف متاثر نہیں ہوگا'

سی پیک پر 'خاموش سفارتکاری' کا خاتمہ

چین میں 'دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو' کو سال کا سب سے بڑا سفارتی اجلاس قرار دیا جا رہا ہے جس کا آغاز صدر شی جن پنگ کریں گے۔

'دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو' کیا ہے؟

اس پراجیکٹ کو کچھ اس طرح سمجھاتے ہیں: 'یہ پراجیکٹ چین کی جانب سے عالمی سطح پر معاشی مشکلات کے خاتمے کی کوشش ہے۔ یہ وہ گیت ہے جو کسی ایک آواز میں نہیں ہے بلکہ کورس میں ہے'۔ اس پراجیکٹ کے ذریعے چین تجارت میں اضافہ اور اپنی معیشت کو ایشیا سے باہر کے خطے لے جانا چاہتا ہے۔

ایسا کرنے کے لیے چین بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک کو ملانے کا عزم رکھتا ہے۔ چند اندازوں کے مطابق چین کا منصوبہ ہے کہ ہر سال 150 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ رواں سال کے آغاز پر ریٹنگ ایجنسی 'فچ' کا کہنا تھا کہ 900 بلین ڈالر کے پراجیکٹ کی یا تو منصوبہ بندی کر لی گئی ہے یا ان پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔

ان منصوبوں میں پاکستان میں پائپ لائنز اور بندرگاہ، بنگلہ دیش میں پُل اور روس میں ریلوے کے پراجیکٹ ہیں۔ ان کا مقصد 'جدید سلک روڈ' کا قیام ہے جس کے ذریعے تجارت کی جا سکے اور ایک نئے گلوبلائزیشن دور کا آغاز کیا جائے۔

بیلٹ اینڈ روڈ سے مطلب؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس اجلاس کے آغاز سے قبل ہی دنیا بھر کے سربراہان چین پہنچ چکے ہیں اور اعلی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

'دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو'کے دو اہم حصے ہیں۔ ایک ہے جس کو 'سلک روڈ اکنامک بیلٹ' کہا جاتا ہے اور دوسرا ہے '21 ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ۔'

'21 ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ' وہ سمندری راستہ ہے جس کے ذریعے چین اپنے جنوبی ساحل کو وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے ذریعے مشرقی افریقہ اور بحیرہ روم سے ملائے گا۔

آغاز کب ہوا؟

چینی صدر شی جن پنگ نے ستمبر 2013 میں قزاقستان کی ایک یونیورسٹی میں خطاب کے دوران 'سلک روڈ اکنامک بیلٹ' کا باضابطہ اعلان کیا۔ تاہم بعد میں اس منصوبے میں وسعت لائی گئی اور نام بھی تبدیل کر دیا گیا۔

چین نے اس پراجیکٹ کے حوالے سے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں اہم ترین 62 بلین ڈالر کا چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان میں موٹر ویز کا جال بچھانا گا، پاور پلانٹس لگیں گے، فیکٹریاں لگیں گی اور ریلوے کا جال بچھے گا۔

پاکستان کے علاوہ چین نے سری لنکا میں 1.1 بلین ڈالر کا منصوبہ شروع کیا ہے، انڈونیشیا میں میں تیز رفتار ریل لنک اور کمبوڈیا میں صنعتی پارک۔

دیگر ممالک کا کیا خیال ہے؟

چین کے اس منصوبے پر ملا جلا ردعمل ہے۔ وسط اور جنوب مشرقی ایشیا کی ریاستیں جیسے کہ کزاکستان اور تاجکستان ہیں تو وہ بہت خوش ہیں۔

دوسری جانب انڈیا نے شک کا اظہار کیا ہے کہ تجارتی منصوبے بہانہ ہیں اور چین کا اصل منصوبہ بحرِ ہند پر سٹریٹیجک کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

بہت بڑا منصوبہ؟

یہ ایک بہت بڑا پراجیکٹ ہے جس کے ذریعے دنیا کی 65 فیصد آبادی، دنیا کی تین چوتھائی توانائی کے ذخائر اور دنیا کا 40 فیصد جی ڈی پی تک پہنچے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین پاکستان اقتصادی راہداری پر 46 بلین ڈالر لاگت آئے گی۔

ایک اندازے کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری پر 46 بلین ڈالر لاگت آئے گی۔ اس منصوبے کے تحت کاشغر کو دو ہزار میل دور گوادر سے جوڑا جائے گا۔ واضح رہے کہ امریکہ نے سنہ 2002 سے اب تک پاکستان میں 33 بلین ڈالر خرچے ہیں جن میں سے دو تہائی سکیورٹی کی مد میں تھے۔

تفصیلات مبہم

اس پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلات مبہم ہیں۔ جیسے اس پراجیکٹ کا ایک نقشہ تیار کیا گیا لیکن اس کو بھی جلد ہی منظر عام سے ہٹا دیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں