کُلبھوشن کیس: پاکستان نے عالمی عدالتِ انصاف کا دائرہ اختیار چیلنج کر دیا

انڈیا میں کلبھوشن کے حق میں مظاہرہ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انیا میں کلبھوشن کے حق میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں

پاکستان نے ملک میں دہشت گردی اور ملک دشمن سرگرمیوں کے جرائم میں سزائے موت پانے والے انڈین بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھو کے معاملے میں عالمی عدالتِ انصاف کے دائرۂ اختیار کو چیلنج کر دیا ہے۔

یورپی ملک نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالتِ انصاف میں پیر کو كلبھوشن جادھو کے معاملے کی سماعت ہوئی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جلد از جلد سنایا جائے گا۔

کلبھوشن پر انڈین درخواست کی سماعت 15 مئی کو

'جب تک دونوں ملک رضامند نہیں، سماعت نہیں ہو گی'

ایران کی کلبھوشن یادو تک رسائی کی درخواست

کلبھوشن کی سزا پر انڈین دھمکیاں

عدالت میں پاکستان کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے بیرسٹر خاور قریشی نے کہا کہ ویانا کنونشن کے تحت عالمی عدالتِ انصاف کا دائرۂ اختیار محدود ہے اور کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت میں نہیں لایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ہنگامی نوعیت کا نہیں جیسے کہ انڈیا کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے۔

انڈیا نے عالمی عدالتِ انصاف سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ جادھو کی پھانسی کے خلاف اپیل کرنے کے لیے بہت کم وقت ہے اور پاکستان میں اس سلسلے میں تمام امکانات پر غور کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔

پاکستان کے وکیل نے کہا کہ انڈیا کے دلائل میں تضاد ہے اور وہ غلط بیانی سے کام لے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن کی سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد فراہم کیے تاہم انڈیا نے پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ کلبھوشن یادو جاسوس ہے اور قونصلر رسائی کا حق نہیں رکھتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Justice Hub
Image caption عالمی عدالتِ انصاف ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں واقع ہے

خیال رہے کہ انڈیا نے 15 سے زیادہ بار كلبھوشن جادھو کو قانونی مدد دینے کے لیے قونصلر رسائی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن پاکستان نے اس کی منظوری نہیں دی۔

خاور قریشی نے عدالت سے انڈین درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی۔

انڈین دلائل

اس سے قبل انڈیا نے عالمی عدالت انصاف سے اپیل کی کہ پاکستان کو کلبھوشن جادھو کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کرنے سے روکنے کے احکامت جاری کیے جائیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انڈین وکیل دیپک متل نے عدالت سے کہا کہ جادھو ایک 'بےقصور بھارتی شہری ہیں جو من گھڑت الزامات میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں قید ہیں، انہیں ویانا کنونشن کے تحت ان کے حقوق نہیں دیے جا رہے۔'

دیپک متل نے عدالت سے کہا کہ 'جادھو کو اپنے مرضی کے وکیل کے ذریعے دفاع کا حق بھی نہیں دیا گیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں کلبھوشن جادھو کی رہائی کے لیے مظاہرے بھی ہوتے رہے ہیں

انڈیا نے رواں ماہ ہی عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کرتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی تھی۔

انڈیا نے بین الاقوامی عدالت سے اپنی اپیل میں کہا تھا کہ كلبھوشن جادھو کو پاکستان نے ایران میں اغوا کر لیا تھا جہاں وہ بھارتی بحریہ سے ریٹائر ہونے کے بعد تجارت کر رہے تھے۔

اس درخواست کے بعد انڈین میڈیا میں ایسی خبریں گردش کرنے لگی تھیں کہ عالمی عدالتِ انصاف نے اس پھانسی پر عملدرآمد کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کیا ہے تاہم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے ایسی تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'عالمی عدالتِ انصاف نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے۔'

انڈیا نے عدالت کو بتایا ہے کہ 23 جنوری 2017 کو پاکستان نے كلبھوشن جادھو کے مبینہ طور پر پاکستان میں جاسوسی اور شدت پسند سرگرمیوں میں شامل ہونے کے معاملے کی تحقیقات میں مدد مانگی تھی اور کہا تھا کہ قونصلر رسائی کی درخواست پر غور کرتے ہوئے بھارت کے جواب کو ذہن میں رکھا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کلبھوشن پہلے بھارتی جاسوس تھے جو بلوچستان سے گرفتار ہوئے

انڈیا کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں مدد مانگنے کو قونصلر رسائی کے مطالبے سے جوڑنا ویانا كنونشن کے خلاف ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی فوجی عدالت نے جادھو کو جاسوسی اور دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے معاملے میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

اس مقدمے میں سینیئر وکیل ہریش سالوے عالمی عدالت انصاف میں انڈیا کی نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کی قانونی ٹیم کی سربراہی اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی کر رہے ہیں۔

کلبھوبشن کا ویڈیو بیان

یاد رہے کہ مارچ 2016 میں کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد پاکستان کی جانب سے ان کا ایک ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں وہ یہ اعتراف کرتے دکھائی دیے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کر رہے تھے۔

انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے اس ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا انڈیا کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے۔

اسی بارے میں