’لندن میں پی آئی اے کے طیارے سے منشیات برآمد‘

پی آئی اے تصویر کے کاپی رائٹ AFP

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے طیارے سے پیر کی رات لندن ہیتھرو ہوائی اڈے پر ہیروئین برآمد ہوئی تھی۔

نیشنل کرائم ایجنسی کی طرف سے بی بی سی کو بھجوائے گئے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ’بارڈر فورس کی جانب سے پیر 15 مئی کو ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر پاکستان سے آنے والی ایک پرواز سے ہیروئین ضبط کیے جانے کے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘

ایجنسی نے بیان میں مزید کہا کہ اس حوالے سے کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور تفتیش جاری ہے۔

برطانیہ: حراست میں لیے گئے پی آئی اے کے 13 ملازمین رہا

’تمام اے ٹی آر طیارے عارضی طور پر گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ‘

دوسری جانب پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی پرواز پی کے 785 پر سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے تلاشی کے عمل کے بعد پی آئی اے کو نہ تو زبانی اور نہ ہی تحریری طور پر طیارے میں منشیات کی موجودگی کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد سے لندن پہنچنے والی پرواز کے عملے کو روکا گیا تھا جن کو بعد میں ہوٹل جانے کی اجازت دی گئی۔ مگر منگل کی رات کو عملے کو پاسپورٹس کی واپسی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور عملہ بدھ کو پاکستان آنے والی پرواز پر خدمات سرانجام دے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ HISTORYOFPIA.COM
Image caption پی آئی اے ذرائع نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ 'پولیس نے طیارے کی تلاشی لی۔ ان کے پاس معلومات تھیں جن کی بنیاد پر انھوں نے آتے ہی طیارے کے مخصوص حصوں کی تلاشی لی‘

اس سے قبل پی آئی اے کے مختلف ذرائع نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ 'پولیس نے طیارے کی تلاشی لی۔ ان کے پاس معلومات تھیں جن کی بنیاد پر انھوں نے آتے ہی طیارے کے مخصوص حصوں کی تلاشی لی۔'

بی بی سی کو ملنے والی تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے حکام نے طیارے کے مختلف حصے کھول کر اس کی تلاشی لی اور پی آئی اے کے ذرائع کے مطابق اسے ادھیڑ کر رکھ دیا۔

پی آئی اے کی پرواز پی کے 785 پیر کو اسلام آباد سے لندن پہنچی تھی جس کو 758 کے طور پر واپس لندن سے لاہور جانا تھا مگر تلاشی میں تاخیر کی وجہ سے پرواز دیر سے روانہ ہوئی۔

پی آئی اے کے اہکار کے مطابق پولیس نے عملے سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ سکیورٹی حکام نے مختلف چیزوں کو کھول کر دیکھا اور ان کے انداز سے لگ رہا تھا کہ انھیں کسی نے مخصوص جگہوں کے بارے میں بتایا ہے جس کی سکیورٹی اور انسدادِ منشیات کے عملے کو تلاش ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

تلاشی کے لیے روکا جانے والا طیارہ پی آئی اے کا بوئنگ 777-240 ای آر ہے اور اس سے قبل بھی جب یہ طیارہ کراچی میں معمول کی مرمت کے لیے ہینگر میں کھڑا تھا تو پی آئی اے ہی کے انسدادِ منشیات کے عمے نے اس کے بعض حصوں می چھپائی گئی منشیات کی نشاندہی کی تھی جسے بعد میں برآمد کیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں