حتمی فیصلے تک کلبھوشن کو سزائے موت نہ دی جائے: عالمی عدالتِ انصاف

انڈیا میں کلبھوشن کے حق میں مظاہرہ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انڈیا نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ اس کی جانب سے 15 سے زیادہ بار كلبھوشن کو قانونی مدد دینے کے لیے قونصلر رسائی کا مطالبہ کیا گیا

عالمی عدالتِ انصاف نے پاکستان سے کہا ہے کہ انڈین نیوی کے سابق اہلکار اور مبینہ جاسوس كلبھوشن جادھو کی سزائے موت پر اس وقت تک عملدرآمد نہ کیا جائے جب تک عدالت اس سلسلے میں انڈین درخواست پر حتمی فیصلہ نہ سنا دے۔

نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عدالت نے یہ تجویز جمعرات کو کلبھوشن کی سزائے موت رکوانے کے لیے انڈیا کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر دی ہے۔

کلبھوشن کیس کا فیصلہ: کب کیا ہوا

عالمی عدالتِ انصاف کا عبوری فیصلہ پڑھنے کے لیے کلک کریں

’کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت میں نہیں لایا جا سکتا‘

فیصلہ سناتے ہوئے عدالت کے صدر رونی ابراہم کا کہنا تھا کہ عالمی عدالتِ انصاف کلبھوشن کے معاملے کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے اور پاکستان کی جانب سے عدالت کے دائرۂ اختیار کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اعتراضات رد کیے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستان کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ کلبھوشن کا معاملہ ویانا کنونشن کے تحت نہیں آتا اور ویانا کنونشن دہشت گردی اور جاسوسی کے الزام میں زیرِ حراست افراد پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

اس معاملے کی ابتدائی سماعت میں پاکستان کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے بیرسٹر خاور قریشی نے کہا تھا کہ ویانا کنونشن کے تحت عالمی عدالتِ انصاف کا دائرۂ اختیار محدود ہے اور کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت میں نہیں لایا جا سکتا۔

کلبھوشن تک انڈین حکام کو قونصلر رسائی کے بارے میں عدالت نے کہا ہے کہ یہ حق ویانا کنونشن کی شق 36 میں تسلیم کیا گیا ہے اور عدالت سمجھتی ہے کہ اس سلسلے میں انڈیا کی جانب سے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ قرینِ قیاس ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ICJ

انڈیا نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ اس کی جانب سے 15 سے زیادہ بار كلبھوشن کو قانونی مدد دینے کے لیے قونصلر رسائی کا مطالبہ کیا گیا لیکن پاکستان نے اس کی منظوری نہیں دی۔

جج نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے درخواست میں کلبھوشن کی سزا کے حوالے سے جس فوری خطرے کی نشاندہی کی گئی تھی وہ موجود ہے اور پاکستان نے اس سلسلے میں کوئی یقین دہانی نہیں کروائی کہ وہ عدالت کا فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کہا کہ کلبھوشن کو اگست 2017 تک پھانسی نہیں دی جائے گی جس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد انھیں کبھی بھی سزائے موت دی جا سکتی ہے چاہے اس وقت تک عدالت کا حتمی فیصلہ آتا ہے یا نہیں۔

پاکستان کی جانب سے گذشتہ سماعت پر کہا گیا تھا کہ یہ معاملہ ہنگامی نوعیت کا نہیں جیسا کہ انڈیا کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے۔

یاد رہے کہ مارچ 2016 میں کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد پاکستان کی جانب سے ان کا ایک ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں وہ یہ اعتراف کرتے دکھائی دیے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Justice Hub
Image caption عالمی عدالتِ انصاف ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں واقع ہے

انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے اس ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا انڈیا کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے۔

رواں برس اپریل میں پاکستانی فوج نے ایک بیان میں کلبھوشن کو کورٹ مارشل کے بعد سزائے موت سنائے جانے کا اعلان کیا تھا۔

اس بیان کے بعد انڈیا نے دس مئی کو عالمی عدالتِ انصاف سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سزا پر عملدرآمد روکنے کے لیے حکمِ امتناعی جاری کرے کیونکہ جادھو کی پھانسی کے خلاف اپیل کرنے کے لیے بہت کم وقت ہے اور پاکستان میں اس سلسلے میں تمام امکانات پر غور کرنے کے لیے بھی وقت نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں