پاکستانی سفارت خانے کے اہلکاروں کی کابل میں حراست پر پاکستان کا افغانستان سے احتجاج

پاکستان
Image caption پاکستانی وزارت خارجہ

پاکستان کی وزارت خارجہ نے افغان نائب ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے دو اہلکاروں کو حراست میں لیے جانے کے واقعے پر شدید احتجاج کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق افغان نائب ناظم الامور کو بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے منافی ہے اور دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کی روح کے خلاف ہے۔

سرحد پر کشیدگی کا ذمہ دار کون؟

کیا بال پاکستان کے کورٹ میں ہے؟

افغان اہلکار سے مزید کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں گے اور اس امید کا بھی اظہار کیا گیا کہ مستقبل میں افغان حکومت ایسے اقدام اٹھائے گی جس سے پاکستان کے سفارت خانے کے اہلکاروں کی جان و مال کو خطرہ پیش نہ آئے اور نہ ہی ایسے واقعات دوبارہ رونما ہوں۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن کی سرحد پر جھڑپوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

حکام کے مطابق مئی کے اوائل میں افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کے قریب گولہ باری سے 12 افراد ہلاک اور کم از کم 42 زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد چمن سرحد کو بند کر دیا گیا تھا۔

جواب میں پاکستان فوج کی جانب سے کارروائی کی گئی جس کے بارے میں انسپیکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل ندیم احمد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’افغان بارڈر پولیس اور سکیورٹی فورسز کے 50 اہلکار ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد چمن کی سرحد بند کر دی گئی ہے

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل تنازع 28 اپریل کو شروع ہوا جب پاکستانی فوج نے افغان حکام کو اطلاع دی کہ وہ چمن سرحد کے قریب دو دیہاتوں میں مردم شماری کے لیے جا رہے ہیں۔ جس کے بعد وہاں افغان فورسز نے انھیں روک دیا اور کہا کہ یہ افغان علاقہ ہے۔

اس پر پاکستانی حکام نے انہیں نقشوں کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کی لیکن تنازع حل نہ ہوا لہٰذا اس روز ٹیم واپس لوٹ گئی۔

پاکستانی ذرائع کے مطابق اس کے بعد متعدد مرتبہ افغان حکام سے رابطہ کیا گیا اور اپنی خواہش کا اظہار کیا گیا لیکن چار مئی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ جس کے بعد ٹیم ایک مرتبہ پھر وہاں روانہ کی گئی اور پھر جھڑپ ہوئی اور 12 افراد ہلاک ہوگئے۔

تاہم افغان میڈیا میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کو وہاں جانے سے منع کیا گیا تھا لیکن پاکستان نے بات نہیں سنی۔ نتیجے میں چمن سرحد بند کر دی گئی اور تعلقات ایک مرتبہ پھر تلخی کی انتہا تک پہنچ گئے ہیں۔

خیال رہے کہ جھڑپ کے بعد سے دو فلیگ میٹنگز اب تک بے نتیجہ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں