’یہ فیصلہ بھی پاناما کیس جیسا ہی ہے‘

jadhav تصویر کے کاپی رائٹ EPA

عالمی عدالت انصاف کی جانب سے پاکستان میں گرفتار مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے حوالے سے فیصلے کی گونج سوشل میڈیا پر بھی سنائی دیتی رہی۔

سوشل میڈیا پر انڈین اور پاکستانی صارفین کی جانب سے عالمی عدالت انصاف کے عبوری فیصلے پر رائے کا بھرپور اظہار کیا جارہا ہے۔

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس

کلبھوشن جادھو کیس، کب کیا ہوا

'عدالت کے فیصلے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جا سکتی'

انڈیا کی جانب سے کلبھوشن جادھو کی پھانسی کو روکے جانے کو ان کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ متعدد پاکستانی اس فیصلے کے خلاف اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

جمعرات کو عالمی عدالت انصاف کے عبوری فیصلے سے قبل ہی ٹوئٹر پر کلبھوشن جادھو کا ٹرینڈ پاکستان اور انڈیا سمیت عالمی سطح پر بھی صف اول کے ٹرینڈز میں شامل تھا جبکہ پاکستان میں 'پاکستانی عالمی عدالت انصاف کو مسترد کرتے ہیں'، کلبھوشن جادھو، آئی سی جے جبکہ انڈیا میں‌ بھی کلبھوشن جادھو سے متعلقہ ٹرینڈز نمایاں رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

شمع جونیجو کہتی ہیں کہ ’پہلے دن سے ہی میرا یہ موقف تھا کہ ہم نے کلبھوشن جادھو کو منصفافہ مقدمے کا حق اور قونصلر کی رسائی مہیا نہ کر کے اپنا مضبوط کیس کمزور کیا ہے۔‘

پاکستانی وکیل یاسر لطیف ہمدانی کہتے ہیں کہ ’عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ ایسا ہی ہونا تھا۔‘

انڈین صحافی شیکھر گپتا کہتے ہیں ’کلبھوشن جادھو کی سزائے موت کی معطل ہونا عمدہ کامیابی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کیسے کام کرتے ہیں۔ یہ ان جنگجوؤں کے لیے بھی سبق ہے جو سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘

ایک‌ صارف حیدر علی کہتے ہیں کہ ’کلبھوشن جادھو کا فیصلہ بھی پاناما کیس جیسا ہی دکھائی دیتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

وقار یونس سومرو کہتے ہیں کہ ’یہ ایک اندرونی معاملہ ہے۔ پاکستان کو کلبھوشن جادھو کو پھانسی دینی چاہیے تاکہ پیغام دیا جا سکے۔‘

عمران بروہی کہتے ہیں کہ ’کشمیر کے معاملے پر انڈیا اقوام متحدہ کی پرواہ نہیں کرتا تو پاکستان عالمی عدالت انصاف کی خیال کیوں کرے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

خالد منیر کے خیال میں 'نواز شریف پہلی بار عدالت میں کوئی مقدمہ ہارے ہیں۔'

انڈین صارف محمد الطاف کہتے ہیں کہ 'یہ انڈیا کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے، ملکوں کے درمیان تنازعات عدالتوں میں حل کیے جاتے ہیں نہ کہ شور شرابے والے ٹی وی سٹوڈیوز میں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں