قومی اسمبلی کے سپیکر نے رکن پارلیمان کو اسمبلی سے باہر پھنکوانے کی دھمکی دے ڈالی

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption اسمبلی میں شور ہونے پر سپیکر نے خاموش رہنے کا حکم دیا تھا

پاکستان کی پارلیمنٹ کی تاریخ میں ایسا بہت کم دیکھنے کو ملا ہے کہ ملک کے ایوان زریں یعنی قومی اسمبلی کا سپیکر حکومتی اتحاد میں شامل رکن پارلیمان پر اتنا ناراض ہو کہ وہ انھیں ایوان سے سیکیورٹی اہلکاروں کی مدد سے زبردستی باہر نکالنے کی دھمکی۔

جمعرات کے روز حزب مخالف کی جماعتوں کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کو معطل کرکے نہ صرف قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے بارے میں بات ہونی تھی بلکہ بلوچستان کے علاقے چمن میں افغانستان کی افواج کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کے واقعہ پر مشیر خارجہ نے پالیسی بیان بھی دینا تھا۔

اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی تو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی طرف سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کا فاٹا ریفارمز پر متفق نہ ہونا حکمرانوں کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت کی طرف سے فاٹا ریفارمز کے بل کو قبائلیوں کے ساتھ ایک سنگین مذاق قرار دیا گیا۔

حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے ایف سی آر کے قانون کے بدلے رواج بل لانے پر تحفظات تھے تاہم حزب مخالف کی جماعتیں بظاہر اس بات پر متفق دکھائی دیتی تھیں کہ اس قانون پر ایوان میں بحث کروائی جا سکتی ہے۔

حکومت اور حزب مخالف کی دو بڑی جماعتوں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف شامل تھیں بظاہر وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اصلاحات لانے پر متفق دکھائی دیتی تھیں لیکن حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا، ان میں جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے علاوہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کا ایک دھڑا بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ابھی حکومتی بینچز پر بیٹھے ہوئے ارکان اسمبلی قائد حزب اختلاف کی تنقید سے سنبھل بھی نا پائے تھے کہ حکومتی اتحاد میں شامل اور بظاہر اپوزیشن بینچز پر بیٹھے ہوئے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی طرف سے یہ بیان داغا گیا کہ اگر فاٹا سے متعلق اصلاحات کا نفاذ کیا گیا تو پھر ایک بین الاقوامی تنازع شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا کیونکہ پاکستان کی آزادی سے پہلے اس علاقے میں ایف سی آر کے قانون کا معاہدہ افغان حکومت اور انگریزوں کے درمیان ہے۔

محمود خان اچکزئی کی طرف سے یہ بیان داغنے کی دیر تھی کہ حکومت سے ہٹ کر حزب مخالف کی جماعتوں اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے ایک دھڑے نے نہ صرف احتجاج کرنا شروع کر دیا بلکہ محمود خان اچکزئی کی پاکستان سے وفاداری پر بھی سوالات اُٹھا دیے۔

ایوان میں شدید شور شرابہ شروع ہوگیا جبکہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بارہا ' آرڈر ان دا ہاؤس' کے الفاظ بولتے رہے لیکن کوئی ان کی آواز پر کان دھرنے کو تیار نہیں تھا۔

فاٹا سے تعلق رکھنے والے حکومت کے حمایتی رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی مائیک کے بغیر ہی اونچی آواز میں بول رہے تھے جس پر قومی اسمبلی کے سپیکر غصے میں سیخ پا ہوگئے اور مذکورہ رکن اسمبلی کو مخالب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ چپ نہ ہوئے تو میں ' اُٹھا کر باہر پھنکوا دوں گا'۔