طیارے میں منشیات: برطانوی حکام نے تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیشنل کرائم ایجنسی کے اہلکاروں نے آٹھ گھنٹوں تک پاکستان کی فضائی کمپنی کے عملے کو بھی روکے رکھا تھا اور پوچھ گچھ کے بعد انھیں جانے دیا تھا

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی سے مبینہ طور پر منشیات برآمد ہونے کے شواہد اور تفصیلات سے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے دو دن گزر جانے کے باوجود لندن میں پاکستان کے سفارت خانے کو اعتماد میں نہیں لیا ہے۔

لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر ابن عباس نے جمعرات کو ایک تقریب میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک برطانوی حکام نے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی ہے۔

یاد رہے کہ دو دن قبل لاہور سے لندن ہیتھرو آنے والی پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کی پرواز پر نیشنل کرائم ایجنسی نے چھاپہ مار کر طیارے کے خفیہ خانوں میں چھپائی گئی منشیات برآمد کی تھیں۔

نیشنل کرائم ایجنسی کے اہلکاروں نے آٹھ گھنٹوں تک پاکستان کی فضائی کمپنی کے عملے کو بھی روکے رکھا تھا اور پوچھ گچھ کے بعد انھیں جانے دیا تھا۔

اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے ہائی کمشنر نے کہا کہ یہ واقعہ پاکستان کی قوم اور ملک کے لیے بہت شرمندگی کا باعث تھا۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ کی کرائم ایجنسی کی طرف سے جب انھیں تفصیلات فراہم کی گئیں وہ اس سے پاکستان کے حکام کو بھی آگاہ کریں گے اور پریس کو بھی اعتماد میں لیں گے۔

اسی بارے میں