پاکستان کی قومی سلامتی سب سے مقدم ہے: خواجہ آصف

خواجہ آصف تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption خواجہ آصف

عالمی عدالت انصاف کی جانب سے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے معاملے میں سنائے گئے عبوری فیصلے کے بعد پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی سب سے مقدم ہے اور کلبھوشن کیس میں کوئی بھی فیصلہ بیرونی دباؤ کے بجائے قومی سلامتی کو دیکھتے ہوئے کیا جائیگا۔

'ہماری سب سے اہم ترجیح ہماری قومی سلامتی ہے اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔'

وزیر دفاع نے کہا کہ یہ صرف عبوری فیصلہ ہے اور اس سے کسی کی جیت یا ہار کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ 'کلبھوشن جادھو کے پاس اپنی سزا کے خلاف اپیل کرنے کے لیے دو پلیٹ فارم ہیں، وہ سپریم کورٹ کے پاس بھی جا سکتے ہیں اور پھر صدر کے پاس بھی۔ اور ان کو تو ویسے بھی ابھی پھانسی نہیں دی جا رہی تھی۔'

بی بی سی سے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کلبھوشن جادھو کی پھانسی میں تاخیر نہیں کی گئی بلکہ قانونی کارروائی کا ٹائم فریم طے ہے جس پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کے لیے کسی مرحلے پر کلبھوشن جادھو کی انڈیا کو حوالگی کے امکان کو رد کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کلبھوشن جادھو پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کے لیے نہایت سرگرم رہے ہیں، جس جرم کے لیے قانونی چارہ جوئی کا طریقہ کار مکمل تھا، جس کے بعد اب کلبھوشن کے لیے کسی قسم کے ریلیف کا کوئی امکان نہیں'۔

عالمی عدالت انصاف کے سامنے آنے والے فیصلے میں پاکستان کا موقف تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 'کیس کے مندرجات پر تو ابھی بحث ہی نہیں ہوئی صرف فوری سزائے موت پر حکم امتناع آیا ہے'۔

انھوں نے کہا کہ کیس پر بحث کے دوران پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان نے 'جاسوسی جیسے معاملے پر اپنے تمام قانونی تقاضوں کے مطابق کام کیا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ کلبھوشن کی سزائے موت پر 'حکم امتناع تو بس رسمی ہے۔'

دوسری جانب حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت انصاف میں انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کا کیس جانے پر انھوں نے اسمبلی میں پاکستان کی تیاری کے حوالے سے سوال پوچھا تھا تاہم اس پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ 'حکومت کو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ انڈیا کثیر الجہتی فورمز پر مسائل لے جانا پسند نہیں کرتا۔ میں نے کہا تھا کہ اگر انڈیا عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کا کیس لے کر جا رہا ہے تو اس نے ضرور تیاری کی ہو گی۔'

انھوں نے کہا کہ بار بار سینیٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کلبھوشن جیسے بین الاقوامی کیس کا عالمی سطح پر بیانیہ ہی نہیں بنایا گیا۔

شیری رحمان نے کہا کہ یہ کیس صحیح طریقے سے پیش ہی نہیں کیا گیا۔ 'پاکستانی حکومت کے پاس 10 مئی تک آپشن تھا کہ عالمی عدالت انصاف میں ایک ایڈ ہاک جج کی تقرری کرتے جو کہ انڈیا نے کیا پاکستان نے نہیں کیا۔ پھر آپ نے 15 مئی تک ایک تحریری بیان جمع کرانا تھا جو نہیں کیا گیا۔'

انھوں نے مزید کہا کہ ہو سکتا ہے کہ حکومت کے پاس اس کا کوئی جواب ہو تو وہ ہمیں دے کیونکہ پارلیمان میں تو اس کی جوابدہی نہیں ہوئی۔

انھوں نے کہا ' کیوں حکومت نے ایک غیر تجربہ کار نوجوان وکیل کو اٹارنی جنرل کے دفتر سماعت کے لیے بھیجا گیا جبکہ انڈیا نے لندن سے وہ وکیل کیا جو کوئنز کونسل ہیں اور اس قسم کے مقدمات لڑنے اور جیتنے کے لیے مشہور ہیں۔'

متعلقہ عنوانات