اب یہ پاکستان کا کام ہے کہ وہ عدالت میں ثبوت لے کر جائے: جسٹس علی نواز چوہان

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

عالمی عدالت انصاف کے سابق جج جسٹس علی نواز چوہان کا کہنا ہے کہ جمعرات کو آنے والا فیصلہ صرف یہ تھا کہ پاکستان اس مقدمے کے لیے جو نئے تقاضے مرتب کیے گئے ہیں ان کے مطابق ری ٹرائل کرے۔

بی بی سی کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے جسٹس علی نواز چوہان کا کہنا تھا کہ ’اصل کیس تو ابھی بھی پاکستان کے ہی دائرہ اختیار میں ہے اور پاکستان نے ہی اس کا فیصلہ کرنا ہے۔‘

علی نواز چوہان نے کہا کہ ’جہاں تک سزائے موت کا تعلق ہے، اس کا فیصلہ روک دیا گیا ہے اور وہ یہی چاہ رہے ہیں کہ اس کا ری ٹرائل ہو اور کلبھوشن کو پھانسی نہ دی جائے۔‘

’حتمی فیصلے تک کلبھوشن کو سزائے موت نہ دی جائے‘

خیال رہے کہ جمعرات کو عالمی عدالت انصاف نے پاکستان سے کہا کہ انڈین نیوی کے سابق اہلکار اور مبینہ جاسوس كلبھوشن جادھو کی سزائے موت پر اس وقت تک عملدرآمد نہ کیا جائے جب تک عدالت اس سلسلے میں انڈین درخواست پر حتمی فیصلہ نہ سنا دے۔

اس حوالے سے علی نواز چوہان نے کہا کہ ’یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ فیصلہ انڈیا کے حق میں گیا ہے۔ یہ تو درمیانی فیصلہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انیا میں کلبھوشن کے حق میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اوپر کی عدالتوں میں اپیل کرنے کا موقع ہے اور ان میں بھی یہی اعتراضات اٹھائے جانے تھے کہ قونصلر رسائی نہیں ملی۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان یہ موقف لے لیتا کہ ہم کلبھوشن جادھو کو سزا اس وقت تک نہیں دیں گے جب تک کہ عدالتی کارروائی پوری نہیں ہو جاتی تو شاید عالمی عدالت کی جانب سے حکم امتناع جاری نہیں ہوتا لیکن پاکستان نے یہ چیز وہاں نہیں کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان اگر یہ ثابت کر دے کہ کلبھوشن جادھو گناہ گار ہے تو معاملہ حل ہو جائے گا۔ اب یہ پاکستان کا کام ہے کہ وہ عدالت میں ثبوت لے کر جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں