’دھماکہ ہو گا تو کیا ہو گا، مریں گے شہید ہو جائیں گے‘

سیہون

نہ تو سفر نیا تھا اور نہ ہی دورانِ سفر پیش آنے والی مشکلات کا تصور اور ان کی نوعیت۔ لاہور کے رہائشی محمد زبیر اور ان کے ساتھی ریل کا 18 گھنٹے کا طویل سفر اور آگ برساتے سورج کا سامنا پہلے بھی کر چکے تھے۔

مگر اس بار جب انھوں نے لاہور سے پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع سیہون شریف میں 13ویں صدی کے صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کی درگاہ کی جانب ہزار کلومیٹر سے طویل سفر اختیار کیا تو ان کے سامنے ان مشکلات سے کہیں بڑا خطرہ موجود تھا۔

درگاہ پر دھمال ڈالتے ہوئے 70 سے زائد لوگ محض دو ماہ قبل ہی ایک خودکش دھماکے میں مارے گئے تھے۔ اس بار لوگ بھی زیادہ ہوں گے لہذا کسی ممکنہ دہشت گردی کی کارروائی کا خطرہ بھی دگنا ہو گا۔

لیکن یہ صوفی کا عرس تھا جو سال میں ایک بار آتا ہے اور ان کے عقیدت مندوں کو جانا تھا، سو محمد زبیر اور ان کے سو سے زائد ساتھیوں نے رختِ سفر باندھا۔ مگر درگاہ پر ہر سال باقاعدگی سے حاضری دینے والے ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے بیشتر لوگ شاید ایسا نہیں کر پائے۔

شہباز قلندر کا تین روزہ عرس بدھ کی رات اختتام پذیر ہوا۔ دھمال بھی ہوئی اور بازار بھی سجے۔ آج ملک کے طول و عرض سے آئے لاکھوں زائرین کی گھر واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔

سندھ کے اس چھوٹے سے شہر میں تین دن تک سجنے والے اس میلے میں صرف زائرین ہی نہیں، یہاں کے بازاروں میں دکانیں لگانے والے تاجر بھی ملک کے مختلف علاقوں سے ہر سال یہاں آتے ہیں۔

یہ پاکستان میں لگنے والے بڑے میلوں میں سے ایک میلہ ہے اور اس میں کمائی کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ اب کی بار ماحول قدرے مختلف تھا۔

محمد معراج اجرکیں بیچنے کے لیے ملتان سے آ ئے تھے۔ تاہم ان کی شکایت تھی کہ اس مرتبہ میلے میں اتنے زیادہ لوگ نہیں تھے جتنے ہر سال ہوتے ہیں۔

’اس مرتبہ بہت سختی ہے بم دھماکوں کی وجہ سے، اس لیے شاید لوگ زیادہ نہیں آئے اور ہمارے گاہک بھی کم رہے ہیں۔ ورنہ یہ تو سب سے تیز میلہ ہے پاکستان کا۔ بہت جلدی بڑھتا ہے اور بہت جلدی اترتا بھی ہے۔ پتہ ہی نہیں چلتا گاہک کب آ جائے۔‘

معراج ملک کے تمام بڑے میلوں پر جاتے ہیں اور سیہون شریف گذشتہ پانچ سال سے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے پہلے ان کو سر کھجانے کی فرصت بھی نہیں ملتی تھی لیکن اب وہ گاہک کی انتظار میں بیٹھے تھے۔

’فروری میں جو بم دھماکہ ہوا تھا اس سے شاید لوگ خوفزدہ ہو گئے۔ سخی سرور کے دربار ڈیرہ غازی خان میں بھی ایسے ہی دھماکہ ہوا تھا اور پھر وہاں بھی زائرین کی تعداد کم ہو گئی تھی۔‘

مختیار علی نوشہرو فیروز سے ڈرائی فروٹ لے کر آتے ہیں۔ انھوں نے بھی اپنے ساتھی دوکاندار معراج کی بات سے اتفاق کیا کہ فروری میں ہونے والے دھماکے کی وجہ سے لوگ کم آئے ہیں۔

’تقریباٌ آدھی ہو گئی ہے لوگوں کی تعداد۔ صوبہ پنجاب سے لوگ بہت کم آئے ہیں، اس سے قبل میلے کے پہلے دن پنجاب سے بہت زیادہ لوگ آتے تھے اس دفعہ زیادہ نظر نہیں آ رہے۔‘

مختیار کا کہنا تھا وہ ملک کے دوسرے میلوں میں بھی جاتے ہیں اور ہر طرف ان کو اب ایسا ہی ماحول نظر آتا ہے۔ ’گذشتہ کچھ عرصے میں درباروں اور درگاہوں پر ہونے والے دھماکوں کے بعد وہاں ہونے والے عرسوں پر زائرین کی تعداد کم ہو گئی ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سیہون شریف دربار کے نگران ڈاکٹر مہدی شاہ نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال ان کے اندازے کے مطابق تقریباٌ آٹھ لاکھ زائرین شہباز قلندر کے عرس پر آئے تھے جبکہ اس سال اندازے کے مطابق زائرین کی یہ تعداد تقریباٌ پانچ لاکھ کے قریب رہی۔

مگر ان کے خیال میں اس کی وجہ دھماکے کا خوف نہیں بلکہ سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے۔

پولیس اور رینجرز کی ایک بھاری تعداد درگاہ کے اطراف میں تعینات کی گئی تھی اور زائرین کی تین مختلف مقامات پر جامہ تلاشی لینے کے بعد اور واک تھرو گیٹس سے گزارنے کے بعد اندر جانے کی اجازت دی جاتی تھی جس کی وجہ سے زائرین کو طویل قطاروں میں کھڑے ہونا پڑتا تھا۔

تاہم لاہور سے آنے والے محمد زبیر اور ان کے ساتھیوں سمیت دیگر بہت سے زائرین ایسے تھے جن کا کہنا تھا کہ ان کو دہشتگردی کے واقعات کا قطعی خوف نہیں تھا۔

انہی سب میں شہباز قلندر کی درگاہ پر اپنے بچپن سے آنے والے لال چوغا پہنے بابا مہر والا بھی ہیں۔

’دھماکہ ہو گا تو کیا ہو گا، مریں گے شہید ہو جائیں گے۔‘

ان کا دعوٰی ہے کہ ان کی عمر 70 سال سے زیادہ ہے اور وہ ہر سال قلندر کے عرس پر آتے ہیں اور دھمال بھی ڈالتے ہیں۔

لاہور کی رہائشی ممتاز بی بی کا بھی کہنا تھا کہ ان کو عرس پر آتے ہوئے کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔ وہ گذشتہ 28 سال سے باقاعدگی سے یہاں آ رہی ہیں۔

’مجھے معلوم ہے ادھر دھماکہ ہوا تھا مگر مجھے کوئی ڈر نہیں۔ شہید تو ادھر بھی ہونا اور ادھر بھی ہونا ہے، اچھا نہیں کہ اچھی جگہ پہ ہو جائیں۔‘

لاہور سے آنے والے محمد زبیر دوسرے کئی لوگوں کی طرح ایک دن مزید دربار پر رکیں گے اور جمعے کو واپس جائیں گے۔

اسی بارے میں