کراچی میں ایم کیو ایم حقیقی کی حقیقت

ایم کیو ایم حقیقی
Image caption تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ آفاق احمد جو مہاجر ووٹر کنفیوژ اسے استعمال کرسکتے ہیں

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی تقسیم کے بعد جہاں پاک سرزمین پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی ’مہاجر‘ ووٹ پر نظریں رکھے ہوئے ہیں وہاں مہاجر قومی موومنٹ حقیقی نے بھی اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں جمعے کو خواتین کا غیر معمولی جلسہ منعقد کیا جا رہا ہے جس کے لیے جہاں کئی علاقوں میں مہاجر کی عبارت والے جھنڈے لگائے گئے ہیں وہیں لانڈھی سے شاہ فیصل تک کیمپس بھی لگے ہیں۔

مصطفیٰ کمال اور ان کے ساتھیوں کی ’بغاوت‘ سے تقریبا تین دہائیاں قبل 1992 میں آفاق احمد، عامر خان، منصور چاچا اور دیگر نے ایم کیو ایم سے راہیں جدا کر کے ایم کیو ایم حقیقی کی بنیاد رکھی تھی۔

ان ہی دنوں میں ایم کیو ایم کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز ہوا اور اس جماعت کا اثرو رسوخ بڑھا۔

تجزیہ کار ضیاالرحمان کے مطابق لانڈھی، ملیر، لائنز ایریا اور شاہ فیصل کالونی کے علاقے حقیقی کے زیر اثر تھے اور یہاں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے داخلے پر غیر اعلانیہ پابندی تھی اسی طرح جو ایم کیو ایم کے علاقے تھے وہاں حقیقی کے کارکنوں کو آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

2003 میں سابق صدر پرویز مشرف نے جب ایم کیو ایم سے اتحاد کیا تو حقیقی کے لیے مشکل دور کا آغاز ہوا۔ لانڈھی میں واقع تنظیم کے مرکز کو منہدم کردیا گیا۔ آفاق احمد اور عامر خان گرفتار ہو گئے جبکہ کارکنوں نے روپوشی اختیار کرلی۔

Image caption 1992 میں آفاق احمد، عامر خان، منصور چاچا اور دیگر نے ایم کیو ایم سے راہیں جدا کرکے حقیقی کی بنیاد رکھی

2011 میں آفاق احمد اور عامر خان رہا تو کر دیے گئے لیکن تنظیم اختلافات کا شکار ہوگئی اور عامر خان نے متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت اختیار کرلی۔

2013 میں کراچی میں ایک اور آپریشن کے بعد جہاں کچھ سیاسی جماعتوں کو ریلیف ملا وہاں کچھ جماعتوں کے لیے خلا بھی پیدا ہوا، جن میں ایم کیو ایم حقیقی بھی شامل ہے۔

جماعت کے وائس چیئرمین شمشاد غوری کا کہنا ہے کہ اب صورتحال میں بہتری آئی ہے اور وہ جلسے اور اجلاس کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق ’آفاق احمد کی نقل و حرکت پر بھی کوئی پابندی نہیں جبکہ چند سال پہلے تک ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے انہیں روکا جارہا ہے۔‘

2013 کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم حقیقی کو صرف پی ایس 122 پر 2555 ووٹ ملے جبکہ جن باقی 13 صوبائی حلقوں میں جماعت نے امیدوار کھڑے کیے تھے وہاں کہیں بھی 700 سے زائد ووٹ نہیں مل سکے۔

اسی طرح پی ایس 115 کے ضمنی انتخابات میں بھی تنظیم نے صرف 700 ووٹ حاصل کیے۔

حقیقی کے وائس چیئرمین شمشاد غوری کے پاس اس کی کوئی واضح وجہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے 2013 کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا کیونکہ پولنگ سٹشینوں کو یرغمال بنا دیا جاتا تھا اور ایک جماعت کو چھوٹ دی گئی تھی۔

ایم کیو ایم حقیقی اس وقت بھی اپنے روایتی علاقوں لانڈھی، ملیر، شاہ فیصل کالونی اور لائنز ایریا میں نظر آتی ہے۔ جمعہ کو جلسہ بھی ملیر کے ہی علاقے میں رکھا گیا ہے۔

تاہم شمشاد غوری اس سے اتفاق نہیں کرتے ان کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم گلستان جوہر، اورنگی اور کورنگی میں بھی موجود ہے۔ وہ ان علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں نظر بھی رکھ سکیں۔

تجزیہ نگار مظہر عباس ایم کیو ایم حقیقی کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تنظیمی طور پر حقیقی کہیں نظر نہیں آتی۔

’آپ تنظیمی سطح پر کام کر رہے ہوں تو ضروری ہے کہ تنظیم اور دفتر نظر آئیں۔ اس سطح پر حقیقی نے کبھی اہمیت حاصل نہیں کی۔‘

Image caption ایم کیو ایم حقیقی اس وقت بھی اپنے روایتی علاقوں لانڈھی، ملیر، شاہ فیصل کالونی اور لائینز ایریا میں نظر آتی ہے

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ اور پاک سرزمین پارٹی نے دیگر کمیونٹیز کو بھی شامل رکھا ہے لیکن حقیقی مہاجر پہچان پر سیاست کرتی آئی ہے۔

شمشاد غوری کا کہنا ہے کہ الطاف حسین ، ڈاکٹر فاروق ستار و دیگر جماعتیں مہاجر لفظ استعمال نہیں کرتے لیکن ان کی سیاست کی بھٹی کا ایندھن مہاجر عوام ہی ہیں جو ان کے جلسوں اور مارچوں میں شریک ہوتی ہے۔

ایم کیو ایم کی ابتدائی قیادت اس وقت تین جماعتوں میں موجود ہے، پچھلے دنوں ایم کیو ایم اور حقیقی کے انضمام کی خبریں سامنے آئیں لیکن شمشاد غوری اس کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان ہو پاک سرزمین پارٹی یا حقیقی تینوں کا اپنا نقطۂ نظر اور پروگرام ہے اس لیے انضمام نہیں ہوسکتا تاہم یہ ممکن ہے کہ انتخابات میں سیٹ ایڈجسمنٹ کی جائے۔

تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ حقیقی کی سیاست آفاق احمد کی شخیصت کے گرد گھومتی ہے اور وہ خود کو سیاسی طور پر منوا نہیں پائے ہیں۔

’ان کا خیال ہے کہ کہ جو مہاجر ووٹر کنفیوژ ہے وہ اس کو استعمال کرسکتے ہیں اور لوگ ان کے ساتھ آ سکتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں لیکن انتخابی سیاست اس میں کامیابی کے امکانات کم ہیں۔‘

تجزیہ نگار ضیاالرحمان کا خیال ہے کہ آفاق احمد کا خیال ہے کہ مہاجر ووٹ تقسیم ہونے سے بچے، اس لیے ان کی کوشش ہے کہ تمام فریقین ساتھ ہوں۔ لیکن قیادت پر اتفاق نہیں۔

اسی بارے میں