’سائبر کرائم کا قانون اب کیوں یاد آ رہا ہے؟‘

سوشلستان میں کُلبھوشن جادھو کے موضوع پر بہت ساری ٹویٹس کی جا رہی ہیں اور اس کے علاوہ کوئٹہ والوں نے نواز شریف کو 'ریجیکٹ' کر دیا ہے کیونکہ جہاں جہاں پی ٹی آئی جلسہ کرتی ہے اس شہر کے ساتھ پارٹی کے سوشل میڈیا کے سرگرم کارکن 'ریجیکشن' لگا کر ٹرینڈز بناتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے آئی سی جے کو 'ریجیکٹ' کر دیا ہے۔ ٹوئٹر پر اتنی ریجیکشن ہونے لگی ہے کہ ٹوئٹر اب وہ ٹوئٹر ہی نہیں لگتا۔ مگر اس ہفتے ہم بات کریں گے سائبر کرائم بل اور اس کے حوالے سے تحفظات کی۔

سائبر کرائم بل پر پی ٹی آئی اے تحفظات

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پی ٹی آئی بلوچستان کے رہنما سالار کے ساتھ

گذشتہ دنوں پی ٹی آئی اے کے چیئرمین عمران خان نے ٹویٹ کی کہ 'حکومت سائبر کرائم قوانین کا ناجائز استعمال کر کے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے کارکنوں کو سیاسی طور نشانہ بنا رہی ہے۔ ایک جمہوریت میں یہ ناقابلِ قبول ہے۔'

عمران خان کا اشارہ سالار سلطانزئی کی جانب تھا جو پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ ہیں اور جنہیں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا تھا۔

جہاں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے سالار کی رہائی کے حق میں اور حراست کے خلاف بات کی وہیں سالار کی جانب سے سوشل میڈیا پر ہراساں کیے جانے والے افراد نے بھی اپنے تجربات بیان کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption عمران خان نے سائبر قوانین کی مذمت کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک کی بات کی

عمران خان نے 'آج نیوز' کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ایف آئی اے کے پاس سالار کو اپنی رائے کا اظہار کرنے پر حراست میں لینے کا کوئی جواز نہیں جو ایک سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ہیں' جبکہ قاسم خان سوری جو پی ٹی بلوچستان کے اہم رہنما ہیں نے لکھا 'ہم اپنے لڑکے پر فخر کرتے ہیں۔'

پی ٹی آئی اے کے رہنما فواد چوہدری نے لکھا 'سوشل میڈیا کے کارکنوں کو ڈرانے کے لیے جو کیا جا رہا ہے وہ شرمناک ہے۔ پاکستان کو آمرانہ ریاست نہیں بننے دیا جا سکتا۔'

نعیم الحق نے لکھا 'پی ٹی آئی کے دشمن سوشل میڈیا کا استعمال کر کے پی ٹی آئی کے حامیوں کے بہروپ میں ہماری بہادرافواج پر تنقید کر رہے ہیں۔ یہ انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔'

اس پر ضرار کھوڑو نے تبصرہ کیا کہ 'کچھ کی حد تک تو ٹھیک ہے۔ مگر سالار پی ٹی آئی میں کئی برس سے ہیں اور ہاں ان کی ٹویٹس اب بھی موجود ہیں۔ اپنوں کو ایسے بیچ راہ میں چھوڑنا بالکل درست نہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ایمان حاضر مزاری کی ٹویٹ جس میں انہوں نے اپنے ساتھ روا رکپے جانے والے سلوک کے بارے میں لکھا

ڈاکٹر شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان حاضر مزارای نے لکھا 'میں اسے ہیرو بالکل نہیں بناؤں گی۔'

مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں اپنے ایسے کارکنوں کو جو سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کرتے ہیں اور اپنے مخالفیں مرد اور خواتین کے خلاف نازیبا استعمال کرتے ہیں اسی جوش اور جذبے سے سمجھاتی ہیں جیسے وہ ان کے دفاع میں سرگرم ہیں کیونکہ ہم سب کسی نہ کسی مقام پر ایسے لوگوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ اہم سوال یہ ہے کہ اب سیاسی جماعتوں کو سائبر کرائم کا قانون کیوں یاد آ رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption فریحہ عزیز کی ٹویٹس جن میں انھوں نے قانون سازوں کی جانب سے سائبر قوانین میں جلد بازی کے اثرات کو بیان کیا

انٹرنیٹ پر صارفین کے لیے کام کرنے والے ادارے ’بولو بھی‘ کی ڈائریکٹر فریحہ عزیز نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے تحفظات پر لکھا ' یہ تحفظات اور سوالات پہلے کہاں تھے جب سائبر کرائم کا قانون ایک بل تھا؟ آخر کیوں اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا؟ جب یہ قانون ایک بل تھا تب کیوں سیاست دان اور سیاسی جماعتوں نے اس میں تحفظ کے لیے قانون سازی نہیں کی اور کیوں ایک اصولی موقف نہیں اپنایا؟'

پی ٹی آئی ہی کے رہنماؤں میں اس قانون کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے جیسا کہ سینیٹر شبلی فراز نے لکھا 'سائبر کرائم کے قانون کے تحت پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ہراساں کیا جانا ناقابلِ قبول ہے۔ اچھے قانون کو بری نیت کے ساتھ تباہ کیا جا رہا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پی ٹی آئی اے رہنما جہانگیر ترین کی ٹویٹ

فریحہ عزیز نے اس پر جواب لکھا کہ 'اچھا قانون؟ کیسے؟ اس قانون نے صرف لوگوں کو نشانہ بنایا ہے اور کسی کو ریلیف نہیں دیا۔ براہِ مہربانی ڈسٹرکٹ عدالتوں کا چکر لگائیں اور دیکھیں اس پر عملدرآمد سے کیا گند پڑ گیا ہے۔'

فریحہ عزیز نے مزید لکھا 'کب ہمارے سارے سیاستدان اور ساری سیاسی جماعتیں مسائل پر اصولی موقف اپنانا سیکھیں۔ نہ کہ صرف اس صورت میں شور مچائیں جب ان کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہو۔'

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ NADEEM KHAWER
Image caption موسم کے بدلنے کے ساتھ موسم کے پھل اور آم کے بغیر گرمیاں کیسی؟
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کراچی کی یہ تصویر پاکستانیوں کی زندگی کے اس پہلو کی عکاسی کرتی ہے جو چار سال بعد بھی شاید بدلنے کو تیار نہیں۔ بجلی کے آنے اور جانے کے دوران کی مصروفیات۔