انڈیا نے عالمی عدالتِ انصاف جا کر سخت غلطی کی ہے: سابق انڈین جج کاٹجو

کلبھوشن تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

عالمی عدالت انصاف کی جانب سے انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے حوالے سے دیے جانے والے فیصلے کے بارے میں انڈیا کی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکنڈے کاٹجو نے فیس بک پر اپنے پیغام میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ انڈیا نے عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکٹا کر غلطی کی ہے۔

فیس بک پر کی گئی پوسٹ میں، جس کو اب تک ساڑھے تین ہزار بار 'لائک' کیا جا چکا ہے، سابق جج نے کہا کہ 'لوگ کلبھوشن کے معاملے پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر بہت خوش ہیں لیکن میری رائے میں انڈیا نے وہاں جا کر سخت غلطی کی ہے۔'

’حتمی فیصلے تک کلبھوشن کو سزائے موت نہ دی جائے‘

کلبھوشن جادھو کیس، کب کیا ہوا

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا ' اب یہ یقینی ہے کہ پاکستان عالمی عدالت تک مسئلہ کشمیر لے کر جائے گا اور پھر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ معاملہ ان کے دائرے اختیار میں نہیں آتا۔ ہم ایک ساتھ ٹھنڈے اور گرم نہیں ہو سکتے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption مرکنڈے کاٹجو کا فیس بک پر پیغام

اپنی پوسٹ میں مرکنڈے کاٹجو نے مزید لکھا کہ 'پاکستان ہمارے اس فیصلے سے بہت خوش ہوگا اور اب وہ تمام معاملات بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر لے جائے گا جس کی ہم نے ہمیشہ مخالفت کی تھی لیکن اب عالمی عدالت انصاف جا کر ہم نے شاید پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔'

دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ، سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ دیے جانے والے فیصلے کے باوجود پاکستان کی پوزیشن بہت مضبوط ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سرتاج عزیز نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف نے صرف کلبھوشن جادھو کی سزائے موت پر حکم امتناعی جاری کیا ہے جو کہ عمومی طور پر سزائے موت کے حوالے سے ہونے والے کیسزیز میں عام بات ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت پاکستان کا موقف دہراتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ کلبھوشن جادھو نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا ہے اور اس پر چلایا گیا مقدمہ ملک کے قوانین کے تحت کیا گیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہے

'عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کو صرف یہ کہا ہے کہ جب تک کہ کیس کا حتمی فیصلہ نہیں آتا پاکستان کلبھوشن کو پھانسی نہیں دے۔ انھوں نے انڈیا کو قونصلر رسائی کی اجازت بھی نہیں دی ہے اور صرف یہ کہا ہے کہ یہ معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔'

حکومت پاکستان کا موقف دہراتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ کلبھوشن جادھو نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا ہے اور اس پر چلایا گیا مقدمہ ملک کے قوانین کے تحت کیا گیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہے۔

پاکستان کی جانب سے بھیجی جانے والی وکلا کی ٹیم کے بارے میں کیے گئے سوال پر سرتاج عزیز نے کہا کہ 'پاکستان کے پاس صرف پانچ دن تھے اس سماعت کی تیاری کرنے کے لیے لیکن خاور قریشی کو بھیجنا ایک متفقہ فیصلہ تھا۔'

انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان آئندہ ہونے والی سماعتوں میں اپنی تیاریاں بہتر کرے گا۔

خیال رہے کہ 18 مئی کو عالمی عدالتِ انصاف نے پاکستان سے کہا تھا کہ انڈین نیوی کے سابق اہلکار اور جاسوس كلبھوشن جادھو کی سزائے موت پر اس وقت تک عملدرآمد نہ کیا جائے جب تک عدالت اس سلسلے میں انڈین درخواست پر حتمی فیصلہ نہ سنا دے۔

فیصلہ سناتے ہوئے عدالت کے صدر رونی ابراہم کا کہنا تھا کہ عالمی عدالتِ انصاف کلبھوشن کے معاملے کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے اور پاکستان کی جانب سے عدالت کے دائرۂ اختیار کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اعتراضات رد کیے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Courtesy of ICJ
Image caption عالمی عدالت انصاف میں 18 مئی کو ہونے والی سماعت کا منظر

انڈیا نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ اس کی جانب سے 15 سے زیادہ بار كلبھوشن کو قانونی مدد دینے کے لیے قونصلر رسائی کا مطالبہ کیا گیا لیکن پاکستان نے اس کی منظوری نہیں دی۔

یاد رہے کہ مارچ 2016 میں کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد پاکستان کی جانب سے ان کا ایک ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں وہ یہ اعتراف کرتے دکھائی دیے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کر رہے تھے۔

انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے اس ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا انڈیا کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے۔

رواں برس اپریل میں پاکستانی فوج نے ایک بیان میں کلبھوشن کو کورٹ مارشل کے بعد سزائے موت سنائے جانے کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں