وکلا میں تصادم، وزیرِاعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

لاہور وکیل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فائل فوٹو

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیرِ انتظام ہفتے کے روز ہونے والے وکلا کنونشن کے دوران وکلا کے دو مخالف گروہ آپس میں الجھ پڑے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے حامی گروپ نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی کال پر ہونے والے کنونشن کو روکنے کی کوشش کی جس کے بعد دونوں گروہوں میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔

کنونشن میں شریک ہونے کے لیے آنے والے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی کو کچھ دیر کے لیے لائبریری میں محبوس بھی کیا گیا۔ کنونشن میں خلل ڈالنے کی سرکاری وکلا اہلکاروں اور پاکستان مسلم لیگ ن کے حامی گروپ کی اس کوشش کے خلاف لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور کنونشن کے شرکا نے مال روڈ پر اٹارنی جنرل کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا۔

اس کے بعد کنونشن کا انعقاد کیا گیا اور اس کے اختتام پر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک متفقہ قرارداد میں وزیرِاعظم نواز شریف سے سات دن میں مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

وزیرِاعظم کے مستعفی نہ ہونے کی صورت میں انھوں نے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا جس کی تاریخ اور مزید محرکات کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت میں ایک نیشنل ایکشن کمیٹی بنا دی گئی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی نے کہا کہ ماہِ رمضان میں لوگوں کو تکلیف نہیں دینا چاہتے تاہم عیدالفطر کے فوراً بعد تک وہ اپنا آئندہ کا لائحہ عمل تیار کر چکے ہوں گے۔

مگر وکلا میں باہمی اختلافات کے ہوتے ہوئے ایسی کسی تحریک کی کامیابی کے کیا امکانات ہو سکتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی کارکنان نہیں۔ ’ہمارا کام سول سوسائٹی اور عوام کو آگاہ کرنا ہے، انھیں یہ بتانا ہے کہ یہی الزامات اگر کسی ہیڈ کلرک یا سپرنٹنڈنٹ پر ہوتے تو اس کو معطل کر کے اس کے خلاف انکوائری شروع کر دی گئی ہوتی۔ مگر اتنے سنگین الزامات کے باوجود وزیرِاعظم اپنی کرسی پر بیٹھے ہیں۔‘

سنیچر کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ چند وکلا کی طرف سے اختلافِ رائے برداشت نہیں کر سکتے، وہ کیسے اس بات کی اجازت دیں گے کہ جے آئی ٹی یعنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم غیر جانبداری سے پانامہ لیکس کی تحقیقات کر سکے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ کنونشن روکنے والے وکلا کی قیادت ایڈیشنل اٹارنی جنرل کر رہے تھے جبکہ ان کے ساتھ پراسیکیوٹر جنرل، اٹارنی جنرل کے آفس کے لوگ بھی شامل تھے۔

پاکستان میں وکلا کی نمائندہ تنظیمیں پاناما لیکس پر عدالتی فیصلے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کے معاملے پر اختلافات کا شکار ہو گئی تھیں۔

یہ اختلافات اس وقت زور پکڑ گئے جب لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان بار کونسل کے وکلا کنونشن کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا جس کے تحت وزیر اعظم نواز شریف سے اِس وقت استعفیٰ طلب کرنے کو قبل از وقت قرار دیا گیا تھا۔

اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے 20 مئی کو ایک ملک گیر وکلا کنونشن لاہور میس منعقد کروانے کی کال دی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری ذوالفقار نے دعوٰی کیا کہ سنیچر کو ہونے والے کنونشن میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل اور چاروں صوبائی بار کونسلز کے علاوہ ملک بھر سے 152 بار ایسوسی ایشنز نے شرکت کی۔

’ان سب نے مشترکہ طور پر یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ وزیرِاعظم نواز شریف مستعفی ہو جائیں۔ اس کے بعد ہی جے آئی ٹی شفاف تحقیقات کر پائے گی۔‘

تاہم لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کنونشن کی مخالفت کرنے والے وکلا کا موقف تھا کہ پاکستان بار کونسل کے کنونشن کے بعد ایک نئے کنونشن کا جواز نہیں بنتا۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن پہلے ہی پاکستان بار کونسل کے وکلا کنونشن کو مسترد کر چکی ہے جس کے حوالے سے صدر لاہور ہائی کورٹ بار چودھری ذوالفقار نے الزام لگایا تھا کہ بعض وکلا نے حکومت سے مراعات لے کر وزیر اعظم کے استعفے سے یوٹرن لیا تھا۔

اسی بارے میں