’سوشل میڈیا پر فوج پر تنقید کرنے والے متعدد افراد زیرِحراست‘

فیس بک ٹوئٹر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف اظہار خیال کرنے پر دو درجن سے زائد افراد کوحراست میں لے لیا گیا ہے جن میں سے بیشتر کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔

’سائبر کرائم کا قانون اب کیوں یاد آ رہا ہے؟‘

’بلاگرز پر مقدمات قائم کرنے کی خبروں میں صداقت نہیں ہے‘

ایف آئی اے کے ذرائع نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ یہ کارروائیاں وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کے ان احکامات کے بعد کی گئی ہیں جو انھوں نے چند دن قبل جاری کیے تھے۔

ذرائع نے کہا ہے کہ ابتدائی تفتیش کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور ان افراد کو کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینیر رہنما شاہ محمود قریشی نے اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے چند گرفتار افراد سے ملاقت کی اور اس بات پر زور دیا کہ حراست میں لیے جانے والوں نے ریاستی اداروں کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی ہے اور اگر ایسی کوئی بات ہے تو ان کو حبس بیجا میں رکھنے کے بجائے عدالت میں قانونی کاروائی کے لیے لے جایا جائے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ آئین کے تحت قومی سلامتی کے معاملات اور ان سے متعلقہ اداروں پر تنقید نہیں کی جاسکتی اور آزادی اظہار کی آڑ لے کر فوج یا اس کے افسران کی تضحیک ناقابل قبول ہے اور اس عمل میں ملوث افراد کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت اور پیشے سے ہو۔

سنیچر کو حراست میں لیے جانے والوں میں پنجاب کے شہر کامونکی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر فیصل رانجھا بھی شامل ہیں جو سوشل میڈیا پر موجودہ حکومت کے حامی اور فوج کے ناقد تصور کیے جاتے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق انھیں سنیچر کی دوپہر کو حراست میں لیے جانے کے بعد اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر سرگرم افراد سے فوج پر تنقید کے تناظر میں پوچھ گچھ کا سلسلہ چند دن پہلے شروع ہوا تھا جب ایف آئی اے نے کوئٹہ میں پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ونگ کے رکن سالار خان کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا اور انھیں اپنا لیپ ٹاپ اور فون لے کر ایف آئی اے کے دفتر میں پیش ہونے کو کہا گیا تھا۔

اس اقدام پر سوشل میڈیا پر عموماً اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے خصوصاً سخت ردِعمل سامنے آیا تھا۔

تحریکِ انصاف جماعت کے سربراہ عمران خان نے بھی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں اس اقدام کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ حکومت سائبر کرائم کا غلط استعمال کر رہی ہے اور اس کے ذریعے پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر نشانہ بنا رہی ہے اور اس کے کارکنوں کو دھمکا رہی ہے اور گرفتار کر رہی ہے۔

اسی بارے میں