تحقیقاتی ٹیم کو ساٹھ دن سے زیادہ نہیں ملیں گے: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان بھی اس موقعے پر عدالت میں موجود تھے

وزیر اعظم اور اُن کے دو بیٹوں کے خلاف پاناما لیکس سے متعلق تحقیقات کرنے والی ٹیم کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے واضح کیا ہے کہ تحققیاتی ٹیم کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے 60 روز سے زیادہ کی مہلت نہیں دی جاسکتی۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق سماعت کی تو مشترکہ تحققیاتی ٹیم کے سربراہ ایف آئی اے کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی طرف سے سربمہر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی۔

اس رپورٹ کے بارے میں عدالت کی طرف سے کچھ نہیں کہا گیا تاہم عدالت نے تحققیاتی ٹیم کے سربراہ کو حکم دیا کہ وہ اس رپورٹ کو رجسٹرار کے دفتر میں جمع کروا دیں۔

سپریم کورٹ کے اس تین رکنی بینچ کے سربراہ نے جج جسٹس اعجاز افضل نے تحققیاتی ٹیم پر واضح کیا ہے کہ اگر اُنھیں محسوس ہو کہ اس تحقیقات میں کوئی سرکاری ادارہ اُن سے تعاون نہیں کرر ہا تو اس بارے میں عدالت عظمی کو آگاہ کیا جائے تاکہ سپریم کورٹ اس کے خلاف تادیبی کارروائی کرسکے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے صحابزادوں کے خلاف کرپشن کے مقدمہ سننے والے پانچ رکنی بینچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں مزید تحقیقات کے لیے چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے تین جج صاحبان نے کمیٹی کو ساٹھ دن کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنے کا وقت دیا تھا۔ اس کے علاوہ ٹیم کے لیے واضع کیے گئے ضوابط کمیٹی کو ہر پندرہ دن کے اندر اپنی رپورٹ تینی رکنی بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ایک ترجمان فواد چوہدری نے عدالت سے استدعا کی کہ اس تحقیقاتی ٹیم کو حکم دیا جائے کہ وہ پندرہ روز ہونے والی تحقیقات کے بارے میں اُنھیں آگاہ کریں کیونکہ اُن کی جماعت پاناما لیکس کے معاملے میں فریق ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان سے استفسار کیا کہ ضابطہ فوجداری یا پولیس رولز میں ایسی کوئی شق بتا دیں جس میں کسی مقدمے کا تفتیشی افسر تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت یا معلومات فریقین کے علم میں لاتا ہو۔ پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت نے قانون کے مطابق چلنا ہے اور قانون میں ایسی معلومات کے تبادلے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ اُن کی طرف سے معلومات حاصل کرنے کے مطالبے سے کوئی دوسرا فریق فائدہ اُٹھالے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں