ایف آئی اے کن سوشل میڈیا کارکنان کے خلاف کارروائی کر رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/Taha Siddique
Image caption طٰحہ صدیقی ایک بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ صحافی ہیں جنھیں 2014 میں پاکستان میں پولیو کے حوالے سے ایک ڈاکیومنٹری بنانے پر پریغ ایلبرٹ لودز ایوارڈ دیا گیا جسے فرانسیسی پولٹزر مانا جاتا ہے۔

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ’ریاستی اداروں کے خلاف اظہار خیال‘ کرنے پر دو درجن سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کچھ افراد کو عبوری طور پر رہا کر دیا ہے اور کچھ افراد کی تفتیش ابھی جاری ہے۔

’سوشل میڈیا پر فوج پر تنقید کرنے والے متعدد افراد زیرِحراست‘

اگرچہ ایف آئی اے نے ان افراد کے نام سرکاری طور ظاہر نہیں کیے ہیں تاہم کچھ افراد نے سوشل میڈیا کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ ان سے ایف آئی اے نے تفتیش کے حوالے سے رابطہ کیا ہے اور مبینہ طور پر انھیں ہراساں بھی گیا ہے۔

طٰحہ صدیقی

انھی افراد میں سے ایک صحافی طٰحہ صدیقی ہیں جنھوں نے پیر کے روز اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے۔

طٰحہ صدیقی ایک بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ صحافی ہیں۔ 2014 میں انھیں پاکستان میں پولیو کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم بنانے پر پریغ ایلبرٹ لودز ایوارڈ دیا گیا جسے فرانسیسی پولٹزر مانا جاتا ہے۔

اس وقت وہ ٹی وی چینل فرانس 24 کے پاکستان کے نامہ نگار اور ویئون چینل کے بیورو چیف ہیں۔ ماضی میں وہ نیویارک ٹائمز اور ڈیلی ٹیلی گراف سمیت متعدد بین الاقوامی اور پاکستان کے خبر رساں اداروں میں کام کر چکے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے طٰحہ صدیقی کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ صرف ان کی ذات کا نہیں بلکہ ساری صحافی برادری کا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں آزادیِ صحافت پر ضرب لگائی جا رہی ہے۔

طحہٰ صدیقی کا عدالت سے رجوع

طحہٰ صدیقی نے عدالت کو بتایا ہے کہ گذشتہ جمعرات کو شام کے وقت انھیں فون کال آئی جس میں کالر نے اپنا نام نعمان بودلہ بتایا اور کہا کہ وہ ایف آئی اے کے انسدادِ دہشتگردی کے محکمے کے اہلکار ہیں۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ نعمان بودلہ نے طحہٰ صدیقی کو ایف آئی اے کے صدر دفتر میں تفتیش کے لیے پیش ہونے کو کہا تاہم انھوں نے تفتیش کی نوعیت کے بارے میں واضح طور پر بتانے سے انکار کیا۔ پٹیشن کے مطابق طحہٰ صدیقی کے ایسی غیر قانونی تفتیش میں شرکت پر ہچکچاہٹ پر نعمان بودلہ نے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا اور آخر میں کہا کہ آپ کے لیے ’بہتر ہوگا‘ اگر آپ خود ہی آ جائیں۔

سالار سلطان زئی

سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر متنازع اظہارِ رائے کے حوالے سے حال میں ایف آئی اے کی کارروائی سے متاثر ہونے والوں میں سب سے پہلے منظرِ عام پر آنے والے شخص سالار سلطان زئی تھے۔

ان کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے اور ان کی ٹوئٹر پروفائل کے مطابق وہ پی ٹی آئی بلوچستان کے سابق انفارمیشن سیکرٹری ہیں۔

اس کے علاوہ وہ پی ٹی آئی کی سائبر فورس کے بانی رکن بھی رہ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ان کے اس اعلان کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی ان کی حمایت میں ٹوئیٹ کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اویس خان

پاکستان تحریکِ انصاف سے ہی تعلق رکھنے والے دوسرے سوشل میڈیا کارکن جنھیں ایف آئی اے نے عبوری طور پر حراست میں رکھا، اویس خان تھے۔

ان کی ٹوئٹر پروفائل کے مطابق وہ راولپنڈی ضلع میں پاکستان تحریکِ انصاف کے تبدیلی رضاکار پروگرام کے ضلعی منتظم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ڈاکٹر فیصل رانجھا

فیصل رانجھا بھی ان افراد میں شامل ہیں جن کو تفتیش کے لیے ایف آئی اے نے حراست میں لیا۔

صوبہ پنجاب کے علاقے کامونکی کے رہائشی فیصل رانجھا پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فیصل رانجھا مسلم لیگ نون کے سوشل میڈیا سیل کے رکن بھی ہیں۔

فیصل رانجھا کو ٹوئٹر پر حکومت کے حامی اور اس کی مخالف قوتوں کے ناقد کے طور پر جانا جاتا ہے۔

ان کی ٹوئٹر فیڈ کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان مسلم لیگ نون کی مسلسل حمایت اور پاکستان تحریکِ انصاف پر تنقید نظر آتی ہے۔

20 مئی کو ان کے بھائی نے ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ فیصل رانجھا کو ہسپتال سے ایف آئی اے کے اہلکاروں نے حراست میں لے لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ادھر گذشتہ روز پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی نے اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے چند گرفتار افراد سے ملاقات کی اور اس بات پر زور دیا کہ حراست میں لیے جانے والوں نے ریاستی اداروں کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی ہے اور اگر ایسی کوئی بات ہے تو ان کو حبس بیجا میں رکھنے کے بجائے عدالت میں قانونی کاروائی کے لے جایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں