’مقصد تو لوگوں کو خاموش کروانا ہے‘

فیس بک تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’آزادی رائے کی روک تھام سے مسئلے حل نہیں ہوتے بلکہ دب جاتے ہیں جو بعد میں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔‘: ضرار کھوڑو

ایف آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا پر متحرک چند افراد کے خلاف کریک ڈاؤن نے ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔

جہاں کچھ لوگ اس کے تانے بانے ڈان لیکس سے جوڑ رہے ہیں وہیں کچھ لوگ اسے آزادی رائے کے خلاف مہم قرار دے رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صحافی ضرار کھوڑو کا کہنا ہے کہ آزادی رائے کی روک تھام سے مسئلے حل نہیں ہوتے بلکہ جو دب جاتے ہیں جو بعد میں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

ایف آئی اے کن کے خلاف کارروائی کر رہی ہے؟

’سوشل میڈیا پر فوج پر تنقید کرنے والے متعدد افراد زیرِحراست‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کریک ڈاؤن کے ذریعے ایف آئی اے چاہتی ہے کہ لوگ تنقید کرنے سے پہلے سوچیں کہ ہمارا کیا انجام ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے صرف پاکستان میں نہیں ہو رہا، بلکہ یہ عالمی رجحان ہے۔ فریڈم ہاؤس کی ایک رپورٹ ’فریڈم آف پریس 2016‘ کے مطابق پچھلے چھ سالوں میں ہر سال انٹرنیٹ استعمال کرنے کی آزادی میں کمی آ رہی ہے۔‘

ضرار کھوڑو کا مزید کہنا تھا کہ ’لوگوں کو وٹس ایپ پوسٹ اور فیس بک لائیو پر بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ایران، ترکی اور چین سمیت پوری دنیا میں ہم یہ ایک بھیڑ چال دیکھ رہے ہیں اور اب پاکستان میں بھی یہی لہر چل رہی ہے خصوصاً ڈان لیکس کے بعد۔ اور مجھے لگ رہا ہے کہ یہ تو ابھی شروعات ہیں۔

’اس کریک ڈاون کا اثر یہ ہوگا کہ لوگ سیلف سنسرشپ کریں گے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان کا ذہن تبدیل ہو گیا ہے۔ اگر وہ کسی چیز کے خلاف ہیں تو رہیں گے لیکن کھل کر بولیں گے نہیں۔ مقصد تو لوگوں کو خاموش کروانا ہے اور میرا خیال ہے کہ ان کی یہ کوشش کامیاب ہو گئی ہے ۔‘

ضرار کھوڑو کی شکایت ہے کہ سوشل میڈیا پر ٹرول اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف ایکشن نہیں لیا جاتا۔

’میں نے سوشل میڈیا پر بہت خوفناک چیزیں دیکھی ہیں، فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی سے لے کر دہشت گردی کی حمایت تک، البتہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ ان کے خلاف کوئی کارووائی کی گئی ہو۔ یا اگر ایکشن لیا گیا تو وہ کوئی واضح ایکشن ہو جس کا سب کو پتا لگا ہو لیکن ایسا نہیں ہے۔ مقصد ہے اختلاف رائے کو روکنا۔ ‘

دوسری جانب سوشل میڈیا پر انسانی حقوق کے لیے مہم چلانے والے وکیل جبران ناصر کا ماننا ہے کہ عوام کی آواز کو دبانا غلط ہے اور اس سے نمٹنے کا واحد طریقہ ہے کہ قوم یکجا ہو کر اس کا مقابلہ کرے۔

’جب بلاگرز غائب ہوئے، تو ہمارا دن رات اس کوشش میں گزر گیا کہ کوئی بڑا سیاسی لیڈر کچھ نہ کرے ایک ٹویٹ ہی کر دے کہ یہ غلط ہو رہا ہے، ایسے لوگوں کو غائب نہیں ہونا چاہیے۔ مگر اب جہاں جس دن تحریک انصاف کا ایک رکن اٹھا، غائب ہوا، غلط غائب ہوا، میں بالکل سپورٹ نہیں کر رہا جو ایف آئی اے نے اس کو بلایا، عمران خان نے فوراً ٹویٹ کر دی۔ بات اتنی سی ہے کہ جب سب لوگ اپنے لوگوں کے لیے بولنا شروع کر دیں گے تو مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اب یہ جب کی لسٹ تیار ہوئی ہے، ان میں سے زیادہ تر کا تعلق یا مسلم لیگ نواز سے ہے یا پاکستان تحریک انصاف سے۔ ان کے پاس ان کی پوری پارٹی کا سپورٹ ہے۔

’اسی طرح جن صحافی کا نام آیا ہے ان کے چینل، اخبار اور یونین ان کے لیے کھڑی ہو جائیں گی۔ اس بیچارے کی مجھے فکر ہے جو کہ ایک عام شہری ہے، وہ بس تنقید کر رہا ہو اور بطور پاکستانی رائے کا اظہار کر رہا ہو اور اس کو ٹارگٹ کر دیا جائے تو اس کی سپورٹ میں کون سامنے آئے گا؟‘

جبران ناصر کا کہنا ہے کہ ’ہمارے ملک میں ان تمام مسئلوں کو حل کرنے کے لیے بات چیت اور سمجھ کی ضرورت ہے۔ ’جب آپ مسئلے کو ہائی لائٹ کر دیتے ہیں توغلط نتیجہ نکلتا ہے۔ جیسے آپ نے ایک سوشل میڈیا صارف کو اٹھا لیا کہ آپ کی پوچھ گچھ کرنی ہے، ہو سکتا ہے اس کو آج تک بیس ہزار لوگ فالو کرتے ہوں، جب اس کو اٹھا لیا گیا تو اب اس کو چالیس یا ساٹھ ہزار لوگ فالو کریں گے کیونکہ باقی پاکستان کو پتا چل گیا ہے کہ اب کچھ تو یہ بندہ بات کر رہا ہے، کچھ تو یہ اثر رکھتا ہے کہ وزیر داخلہ آ کر نوٹس لے رہا ہیں اور اس کو گرفتار کر رہے ہیں۔‘

جبران ناصر کے مطابق ’اگر پالیسی یہ تھی کہ تنقید نہ ہو تو اس کو نظرانداز کرنا چاہیے تھا، آپ تو الٹا اسے غیر ضروری اہمیت دے کر مقبول بنا رہے ہیں۔ آپ تو لوگوں کو رول ماڈل اور ہیرو بنا رہے ہیں کہ ان کو فلو کرو، دیکھو یہ کتنا کھل کر لکھ رہے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں