پاکستانی لڑکے سے شادی کرنے والی انڈین لڑکی عظمیٰ کو وطن واپس جانے کی اجازت

عظمیٰ تصویر کے کاپی رائٹ TAHIR ALI
Image caption ڈاکٹر عظمیٰ نے اپنے شوہر کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی شادی زبردستی کی گئی تھی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستانی لڑکے سے شادی کرنے والی انڈین لڑکی عظمیٰ کو اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دے دی ہے۔

عدالت نے وزارت داخلہ کو انھیں واہگہ بارڈر تک فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

’ڈاکٹر‘ عظمیٰ کون ہیں؟

’میرے ساتھ زبردستی ہوئی ہے، واپس نہیں جاؤں گی‘

یہ حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محسن اختر کیانی نے بدھ کو عظمیٰ اور ان کے شوہر طاہر علی کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کے بعد دیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے عظمیٰ کے شوہر سے اپنی بیوی کے سفری دستاویزات حاصل کیں جو اُنھوں نے شادی کے بعد اپنے قبضے میں لی ہوئی تھیں۔

عدالت نے عظمیٰ سے استفسار کیا کہ کیا وہ اپنے پاکستانی شوہر طاہر علی کے ساتھ رہنا چاہتی ہے جس پر اُس نے انکار کیا۔ عظمیٰ کا کہنا تھا کہ وہ انڈیا واپس جانا چاہتی ہیں جہاں ان کی بیٹی بیمار ہے۔

سماعت کے دوران طاہر علی کھڑے ہوئے اور اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اسے صرف دو منٹ میں علیحدگی میں ملاقات کی اجازت دی جائے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کی بیوی کو انڈین ہائی کمیشن کے لوگوں نے ان کے بارے میں غلط بتایا ہوگا۔

عدالت نے عظمیٰ سے استفسار کیا کہ کیا وہ علیحدگی میں اپنے شوہر سے ملنا چاہتی ہیں جس پر اُنھوں نے ملاقات سے انکار کر دیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت زبردستی میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ اُنھوں نے کہا کہ عظمیٰ بالغ ہیں اور وہ اپنے اچھے برے کا فیصلہ خود کر سکتی ہیں۔

سماعت کے دوران عظمیٰ بےہوش ہوکر کمرہ عدالت میں گر گئیں تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں واقع ڈسپنسری کا عملہ وہاں پہنچ گیا اور اُنھوں نے فوری طبی امداد دے کر انھیں ہوش میں لائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Tahir
Image caption واضح رہے کہ انڈین لڑکی عظمیٰ کی شادی 3 مئی کو طاہر علی کے ساتھ ہوئی تھی

واضح رہے کہ انڈین لڑکی عظمیٰ کی شادی 3 مئی کو طاہر علی کے ساتھ ہوئی تھی۔ شادی کے دو روز کے بعد طاہر علی بھارتی ویزے کی معلومات حاصل کرنے کے لیے اپنی بیوی کے ہمراہ انڈین ہائی کمیشن آیا تھا جس کے بعد عظمیٰ نے اپنے شوہر کے ساتھ جانے سے انکار کردیا تھا اور اُنھوں نے بھارتی ہائی کمیشن میں ہی پناہ لے لی تھی۔

مقامی میڈیا کے مطابق طاہر علی اور عظمی شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے سے ہی شادی شدہ تھے۔ طاہر علی چار بچوں کا باپ ہے جبکہ عظمیٰ ایک بچی کی ماں ہے۔

عظمی کو پولیس کے سخت پہرے میں کمرہ عدالت میں لایا گیا اور اُن کے ساتھ انڈین ہائی کمیشن کا عملہ بھی موجود تھا۔

انڈین شہری عظمیٰ کو دیے گئے پاکستانی ویزے کی معیاد 30 مئی کو ختم ہو رہی ہے۔

سماعت کے دوران انڈین ہائی کمشن کے فرسٹ سیکریٹری پیوش سنگھ نے کمرہ عدالت میں جانے کے لیے سکیورٹی کلیئرنس کے لیے اپنا زائد المعیاد کارڈ جمع کروایا جس پر پولیس اہلکاروں نے اُنھیں گیٹ پر روک لیا۔

انھیں اس وقت تک اُنھیں کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دی جب تک اُنھوں نے اپنا کارآمد کارڈ پولیس اہلکاروں کے پاس جمع نہیں کروا دیا۔

اس سے پہلے بھی کمرہ عدالت میں جج کی تصاویر بنانے پر جسٹس محسن اختر کیانی نے انڈین ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری کا موبائل فون قبضے میں لے لیا تھا تاہم عدالت سے تحریری طور پر غیر مشروط معافی مانگنے کے بعد ان کا موبائل فون واپس کردیا گیا تھا۔

اسی بارے میں