’انڈین فوج کی جانب سے اقوام متحدہ کے مبصرین کی گاڑی پر فائرنگ‘

سرحد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی ایس پی آر کا انڈیا پر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستانی فوج نے انڈیا پر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہا انڈین فوج نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی گاڑی پر فائرنگ کی ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بدھ کی شام جاری کیے گئے بیان کے مطابق انڈین فوج نے ایل او سی کے علاقے خنجر (کھنجر) سیکٹر میں اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ (انموگپ) کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔

انڈیا کا پاکستانی چوکی تباہ کرنے کا دعویٰ، پاکستان کی تردید

بیان کے مطابق اس گاڑی میں اقوام متحدہ کے دو اہلکار، فلپائن کے میجر ایمینؤل اور کروشیا کے میجر مِرکو سوار تھے اور گاڑی پر اقوام متحدہ کا پرچم بھی لگا ہوا تھا۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں دونوں افسران محفوظ رہے اور اب بحفاظت اپنے ٹھکانے پر واپس پہنچ چُکے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے انڈیا اور پاکستان کی جانب سے ایک دوسرے پر ایل او سی پر فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔

گذشتہ روز بھی انڈین فوج نے کہا تھا کہ اس نے پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے پر نوشیرا سیکٹر کے علاقے میں پاکستانی فوج کی ایک چوکی تباہ کی ہے۔

تاہم پاکستان نے اسے ایک جھوٹا دعویٰ قرار دیا تھا۔

انڈین فوج کی جانب سے یہ دعویٰ منگل کو سامنے آیا جب انڈین فوج کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (پبلک انفارمیشن) میجر جنرل اشوک نرولا نے اس مبینہ کارروائی کی ایک مختصر ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں پہاڑ پر قائم کچی عمارت پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ دیکھی جا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Indian Army
Image caption انڈین فوج کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں ایک پہاڑ پر قائم کچی عمارت پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ دیکھی جا سکتی ہے

انڈیا اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کوئی نئی بات نہیں لیکن یہ شاید پہلا موقع ہے کہ انڈین فوج کے ایک اعلیٰ اہلکار نے باضابطہ طور پر اس کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ثبوت کے طور پر ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

اس سے پہلے گذشتہ برس ستمبر میں بھارتی فوج نے پاکستانی سرزمین پر 'سرجیکل سٹرائیکس' کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا لیکن اس وقت میڈیا کے مطالبات کے باوجود کوئی ویڈیو جاری نہیں کی گئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں