کراچی میں بجلی کی آنکھ مچولی سے عوام پریشان

بجلی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کے الیکٹرک کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کراچی کے شہری شدید پریشان

شمیم احمد کی نارتھ ناظم آباد میں سینیٹری کی دکان ہے اور وہ گزشتہ ایک ماہ سے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں۔

ان کے مطابق سارا دن بجلی کی آنکھ مچولی جاری رہتی ہے، ہر چار گھنٹے کے بعد ایک گھنٹہ بجلی نہ ہونا معمول کی بات ہے، اس لوڈشیڈنگ کے باوجود بل کم ہونے کے بجائے اور بھی زیادہ آرہا ہے۔

ان کے ساتھ ہی عمران احمد کی لانڈری کی دکان ہے اور اس لوڈشینگ کی وجہ سے ان کی دکانداری بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ وہ بفرزون کے رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رات کو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بچے سو نہیں پاتے اور سکول جانے میں دشواری ہوتی ہے۔

حزب اختلاف کا لوڈشیڈنگ پر توجہ دلاؤ نوٹس

ہمارا پاکستان اور میڈیا کا پاکستان

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بجلی فراہم کرنے والا ادارہ کے الیکٹرک اس وقت صوبائی حکومت، سیاسی جماعتوں اور عدلیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور اس دباؤ کی وجہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے کے الیکٹرک کے حکام کو 29 مئی کو طلب کر لیا ہے اور ہدایت جاری کی ہے کہ عدلیہ کو یہ بتایا جائے کہ لوڈ شیڈنگ کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

عدالت میں یہ درخواست 2015 میں ہیٹ سٹروک میں شہریوں کی ہلاکتوں اور بجلی کی عدم فراہمی پر دائر کی گئی۔

پاکستان میں بجلی کا شارٹ فال

4000

دو ہزار سترہ میں اوسط میگاواٹ کمی

5000

دو ہزار تیرہ میں اوسط میگاواٹ کمی

  • 6000 اپریل 2017 میں شارٹ فال

Getty

بدھ کو سماعت کے موقعے پر جسٹس عرفان سادات خان کا کہنا تھا کہ 2015 میں ہزاروں شہری بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہلاک ہوئے، کیا اب بھی کے الیکٹرک لوگوں کے مرنے کا انتظار کررہا ہے؟

درخواست گزار ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگیولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے الیکٹرک کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے روکا تھا لیکن اس کے باوجود کے الیکٹرک غیر منصفانہ لوڈشیڈنگ کررہا ہے اور شہر کے مضافاتی اور غریب علاقوں میں زیادہ لوڈشیدنگ کی جارہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کے الیکٹرک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لوڈشیڈنگ جامشورو میں پول گرنے اور گیس کی کمی کی وجہ سے ہورہی ہے۔

دوسری جانب سندھ حکومت بھی گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔ ان کے مطابق کے الیکٹرک کو اس وقت 6 سو میگاواٹ سے زائد بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔

ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے عدالت سے گذارش کی کہ نیپرا قوانین کے مطابق لوڈشیڈنگ کے احکامات جاری کیے جائیں، جس پر کے الیکٹرک کے وکیل نے استدعا کی کہ لوڈشیدنگ کے حوالے سے حکم نامے کو میڈیا پر آنے سے روکا جائے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کی جانب سے ایک بار پھر کے الیکٹرک کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ شہر کی مرکزی شاہراہ شاہراہ فیصل پر نرسری کے مقام پر احتجاج کیا گیا چند ہفتے قبل جماعت اسلامی نے چار روز تک گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا تھا جو گورنر سندھ محمد زبیر سے مذاکرات کے بعد ختم کیا گیا۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ گورنر نے پندرہ روز میں مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی اور معاملات کی پیروی کے لیے ایک تیکنیکی کمیٹی بھی بنائی گئی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

'وفاق کا نمائندہ بھی ایک نجی کمپنی کے سامنے بے بس ہے۔ اوور بلنگ اور لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے، کراچی میں کوئی شارٹ فال نہیں ہے جتنی گنجائش ہے اتنی ہی کھپت ہے۔ یہاں اگر لوڈشیڈنگ ہے تو اس کی وجہ بدانتظامی ہے۔ یہ مہنگے آئل پر پلانٹ نہیں چلاتے تاکہ پیسے بچائیں جبکہ ہم سے پیسے پورے لیتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہریوں کے مطابق ہر چار گھنٹے کے بعد ایک گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔

دوسری جانب صوبے کے گورنر محمد زبیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کے الیکٹرک کے حکام کو دبئی سے طلب کیا گیا ہے۔

گورنر نے دعویٰ کیا کہ ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے میں کراچی میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بالکل کم ہے اور اس سے بھی صنعتیں بھی متاثر نہیں ہوتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک حکام نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ تین سے چار ماہ میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ صنعتی علائقوں اور پانی کی پمپنگ سٹیشنز پر بجلی کی فراہمی کا نظام مزید بہتر بنایا جائے کیونکہ بریک ڈاؤن کے باعث شہر کے لوگ نہ صرف گرمی میں تڑپتے ہیں بلکہ پانی سے بھی محروم ہو جاتےہیں۔

اسی بارے میں