حسین نواز کا پاناما لیکس کی تحقیقاتی ٹیم پر اعتراض، درخواست کی سماعت 29 مئی کو ہو گی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ 29 مئی کو وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی جانب سے پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی چھ رکنی ٹیم کے دو ارکان پر اعتراض سے متعلق درخواست کی سماعت کرے گا۔

حسین نواز نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے اہلکار بلال رسول اور سٹیٹ بینک کے عامر عزیز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

٭ تحقیقاتی ٹیم کو ساٹھ دن سے زیادہ نہیں ملیں گے: سپریم کورٹ

٭ جے آئی ٹی کی کارروائی کھلے عام کی جائے: پی ٹی آئی

٭ ’پاناما لیکس سے متعلق عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے اجتناب کریں‘

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق درخواست میں موقف یہ اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں افراد کا تعلق سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف اور سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ قاف سے ہے جبکہ سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے اہلکار بلال رسول کی اہلیہ 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ قاف کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر امیدوار بھی تھیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں افسران نے ان کے والد نواز شریف کے خلاف حدیبہ پیپرز ملز کے مقدمے میں تحقیقات کی تھی لہذٰا ایسے حالات میں مذکورہ افسران جانبداری کا مظاہرہ کریں گے اور اس سے نہ صرف مقدمہ اثر انداز ہو گا بلکہ یہ آئین اور قانون کے بھی منافی ہو گا۔

عدالت نے اس ضمن میں فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور پیر 29 مئی کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ درخواست کی سماعت کرے گا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الزام سچ ثابت ہونے کی صورت میں یہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ٹوٹ سکتی ہے جس کی وجہ سے پاناما لیکس کی تحقیقات کا سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی دو ماہ کی مدت میں مکمل ہونا مشکل ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ 22 مئی کو وزیر اعظم اور اُن کے دو بیٹوں کے خلاف پاناما لیکس سے متعلق تحقیقات کرنے والی ٹیم کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے واضح کیا تھا کہ تحققیاتی ٹیم کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے 60 روز سے زیادہ کی مہلت نہیں دی جا سکتی۔

وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے صحابزادوں کے خلاف کرپشن کے مقدمہ سننے والے پانچ رکنی بینچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں مزید تحقیقات کے لیے چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے تین جج صاحبان نے کمیٹی کو ساٹھ دن کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنے کا وقت دیا تھا۔ اس کے علاوہ ٹیم کے لیے واضع کیے گئے ضوابط کمیٹی کو ہر 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ تینی رکنی بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں