انڈیا پاکستان میں جارحانہ کارروائی کر سکتا ہے: امریکی ایجنسیاں

انڈین فوج کا دعوی تصویر کے کاپی رائٹ INDIAN ARMY
Image caption انڈین فوج نے کہا تھا کہ اس نے پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے پر نوشیرا سیکٹر کے علاقے میں پاکستانی فوج کی ایک چوکی تباہ کی ہے

امریکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے کانگریس کو خبردار کیا ہے کہ انڈیا ’سرحد پار سے ہونے والے حملوں‘ کو روکنے کے بہانے پاکستان میں جارحانہ کارروائی کر سکتا ہے اور ایل او سی پر موجودہ شیلنگ اور فائرنگ کا تبادلہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان براہِ راست جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے یہ بات سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی سماعت کے دوران منگل کو کی تھی۔

’مودی حکومت میں ہیں، پاکستان سے بہتر تعلقات کی امید نہ کریں‘

ایل او سی:’انڈین فوج کی اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ‘

انڈیا کا پاکستانی چوکی تباہ کرنے کا دعویٰ، پاکستان کی تردید

اطلاعات کے مطابق امریکہ میں دفاع سے متعلق خفیہ ادارے (یو ایس ڈیفینس انٹیلی جنس ایجنسی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ونسینٹ سٹوئرٹ نے کہا کہ گذشتہ برس مبینہ طور پر پاکستان سے انڈیا میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کی طرف سے دو دہشت گرد حملوں کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بدستور کشیدہ ہیں۔

ان کے بقول تعلقات رواں برس مزید خراب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر انڈیا میں کسی بڑے دہشت گرد حملے کی صورت میں، جس کے متعلق نئی دلی کا موقف ہے کہ ایسے حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوتی ہے یا وہاں سے انھیں اس کے لیے مدد ملتی ہے۔

نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈینیئل آر کوٹز کا کہنا تھا کہ 'لائن آف کنٹرول پر شدید فائرنگ، بشمول توپ خانے اور مارٹر گولوں کا استعمال دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان غیر ارادی طور پر لڑائی میں شدت کا سبب بن سکتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ کچھ عرصے سے انڈیا اور پاکستان کی جانب سے ایک دوسرے پر ایل او سی پر فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگانے کا سلسلہ جاری ہے

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر سرحد پار سے حملوں میں کمی ہو جائے اور پٹھان کوٹ حملے کی تفتیش میں پیش رفت ہو گی تو اسی برس دونوں میں بات چیت کا آغاز ہو سکتا ہے اور اس سے دونوں کے درمیان موجودہ کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ونسینٹ سٹوئرٹ کا کہنا تھا: 'انڈیا نے کوشش کی ہے کہ وہ پاکستان کو سفارتی سطح پر الگ تھلگ کر سکے، اور وہ ایسے کسی متبادل پر غور کر رہا ہے جس کے ذریعے وہ مبینہ طور سرحد پار سے دہشت گردی کی مدد کرنے کے لیے اسلام آباد کو قیمت چکانے پر مجبور کر سکے۔'

یہ دونوں افسر سینیٹ میں انٹیلی جنس کمیونٹی کو 2017 اور 18 سے متعلق بریفنگ دے رہے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے انڈیا اور پاکستان کی جانب سے ایک دوسرے پر ایل او سی پر فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔

دو روز قبل انڈین فوج نے کہا تھا کہ اس نے پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے پر نوشیرا سیکٹر کے علاقے میں پاکستانی فوج کی ایک چوکی تباہ کی ہے۔

تاہم پاکستان نے اسے جھوٹا دعویٰ قرار دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں