انڈین شہری ڈاکٹر عظمیٰ واپس چلی گئیں

عظمی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈین شہری عظمیٰ، جنھوں نے بونیر سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی شخص سے شادی کی تھی، جمعرات کی دوپہر واہگہ سرحد سے انڈیا واپس چلی گئی ہیں۔

انڈیا کی خارجہ امور کی وزیر سشما سوراج نے ٹوئٹر پر عظمیٰ کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا:

'عظمیٰ، انڈیا کی بیٹی، وطن واپسی پر خوش آمدید۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ کو ان مشکلات سے گزرنا پڑا۔‘

٭ ’ڈاکٹر‘ عظمیٰ کون ہیں؟

ایشیا نیوز انٹرنیشنل نے عظمیٰ کی ایک تصویر ٹویٹ کی ہے جس میں وہ واہگہ سرحد پر انڈین سرزمین کو چھو رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TAHIR ALI
Image caption ڈاکٹر عظمیٰ نے اپنے شوہر کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی شادی زبردستی کی گئی تھی

یاد رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے عظمیٰ کو اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دے دی تھی اور وزارتِ داخلہ کو حکم دیا تھا کہ انھیں واہگہ سرحد تک فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے۔

یہ حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محسن اختر کیانی نے عظمیٰ اور ان کے شوہر طاہر علی کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کے بعد دیا۔

عظمیٰ نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں بلکہ انڈیا واپس جانا چاہتی ہیں جہاں ان کی پہلی شادی سے ہونے والی بیٹی بیمار ہے۔

عظمیٰ نے اپنے طاہر علی کی درخواست کے باوجود ان سے علیحدگی میں ملنے سے انکار کر دیا تھا۔

جمعرات کی شام کو عظمیٰ دہلی میں انڈین دفترِ خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کریں گی۔ امکان ہے کہ سشما سوراج بھی ان کے ساتھ ہوں گی۔

واضح رہے کہ عظمیٰ کی شادی تین مئی کو طاہر علی کے ساتھ ہوئی تھی۔ شادی کے دو روز کے بعد طاہر علی بھارتی ویزے کی معلومات حاصل کرنے کے لیے اپنی بیوی کے ہمراہ انڈین ہائی کمیشن آئے تھے جس کے بعد عظمیٰ نے اپنے شوہر کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا تھا اور اُنھوں نے بھارتی ہائی کمیشن میں ہی پناہ لے لی تھی۔

عظمیٰ کے دیے گئے پاکستانی ویزے کی معیاد 30 مئی کو ختم ہو رہی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں