دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک کھرب روپے مختص

اسحٰق ڈار تصویر کے کاپی رائٹ Press Information Department

پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان گذشتہ تین سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 سے 100 ارب روپے سالانہ خرچ کر رہا ہے اور جمعے کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں بھی اِس مد میں 100 ارب مختص کیے جا رہے ہیں۔

جمعرات کے روز اسلام آباد میں اقتصادی سروے 2016-17 پیش کیے جانے کے موقعے پر اپنے خطاب میں اُنھوں نے بتایا کہ 'عالمی امن کی خاطر پاکستان میں لڑی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک پاکستان میں 25 ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں جن میں مسلح افواج کے اہلکار بھی شامل ہیں اور اتنی ہی تعداد زخمیوں کی ہے۔‘

’سوئس حکومت پاکستانیوں کی رقم کی معلومات دینے پر راضی‘

انڈیا کا دفاعی بجٹ بڑھتا کیوں جارہا ہے؟

’بیان کا مقصد پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرانا تھا‘

بی بی سی اردو کے عبداللہ فاروقی کے مطابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان شدت پسندی کے خلاف جنگ میں 123 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ اُنھوں نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس رقم سے پاکستان دہشت گردی سے متاثر ہونے والوں کی بحالی، آبادکاری و تعمیر، عارضی طور پر بے گھر افراد کی سواری کے اخراجات، اُن کے اناج اور اِس میں 57 سول آرمڈ وِنگز کی تشکیل کے اخراجات بھی شامل ہیں۔

اقتصادی سروے کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ 'پاکستان نے دس سال کے دوران پہلی بار پانچ فیصد کی سطح سے آگے بڑھ کر 5.28 فیصد کی شرح سے مجموعی قومی پیداوار یا جی ڈی پی کا ہدف حاصل کیا ہے اور جی ڈی پی میں تیزی کا یہی رجحان گذشتہ تین سال سے دیکھنے میں آرہا تھا جسے برقرار رکھا گیا ہے۔‘

وزیرِ خزانہ کے مطابق پاکستان کی معیشت کا حجم پہلی بار 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے جو ایک تاریخی موقع ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ گذشتہ سال پاکستان کی جی ڈی پی کا ہدف 5.70 طے کیا گیا جو حاصل نہیں ہو سکا اور اب آئندہ برس کے لیے یہی ہدف چھ فیصد کے قریب طے کیا جا رہا ہے تو اِس کیسے حاصل کیا جائے گا؟

اِس سوال کے جواب میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا: 'ملک کی معیشت کو سیاست سے علیحدہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جی ڈی پی جیسے اہم قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں، ہمیں سنہ 2030 کے لیے لائحہ عمل ترتیب دینا ہو گا تاکہ پاکستان جی20 ممالک کا رکن بن سکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Press Information Department

اقتصادی سروے کی رپورٹ کے مطابق حکومت رواں سال معاشی ترقی، برآمدات، سرمایہ کاری سمیت اپنے ہی طے کیے گئے اہم اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

ٹیکس محصولات کا ہدف 3621 ارب روپے جبکہ وصولیاں 3500 ارب ہی ہو سکیں۔ معاشی ترقی کا مقررہ ہدف 5.70 فیصد طے کیا گیا تھا جبکہ اُس کی شرح صرف 5.28 فیصد رہی۔ بر آمدات میں تین ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ البتہ مہنگائی کی شرح چھ فیصد سے کم رکھنے کا ہدف حاصل کر لیا گیا جبکہ درآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ صنعتوں کی ترقی 7.7 فیصد ہدف کے مقابلے میں صرف 5.02 فیصد رہیں۔ افراط زر کی اوسط شرح 4.09 فیصد تک رہی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں