برطانوی ہیئر سٹائل پاکستان میں کیوں مقبول؟

سکندر کرمانی تصویر کے کاپی رائٹ SECUNDER KERMANI

جب بی بی سی کے نامہ نگار سکندر کرمانی نے پاکستان میں اپنے بال کٹوانے چاہے تو انھوں نے اس مقصد کی خاطر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر میرپور کا انتخاب کیا۔ انھیں اعتماد تھا کہ یہاں انھیں لندن جیسی ہیرکٹ مل سکتی ہے۔ ذیل میں وہ اپنی کہانی سنا رہے ہیں۔

میں اسلام آباد میں اپنے ہوٹل کے باہر گھوم رہا تھا کہ ایک مونچھوں والے سکیورٹی گارڈ نے مجھ سے پوچھا: 'کیا آپ کا تعلق برطانیہ سے ہے؟'

میں نے ہاں میں جواب دیا۔ میرا خاندان پاکستانی ہے لیکن میں لندن میں پیدا ہوا تھا۔‘

'تو پھر آپ میرپور سے ہوئے نا؟'

میں مسکرا دیا۔ میر پور کو چھوٹا انگلینڈ کہا جاتا ہے کیوں کہ اس کے بہت سے باسی برطانیہ جا کر وہاں سے پیسہ بچا کر لاتے ہیں اور پھر یہاں بڑے بڑے گھر تعمیر کرتے ہیں، یا واپس آ کر اپنے بچوں کی شادیاں کرواتے ہیں۔

'نہیں، میرا خاندان وہاں سے ہے،' میں اسے بتایا۔

اس نے میرے سر کی طرف اشارہ کیا، 'لیکن آپ کا ہیئرسٹائل، ہر میرپوری کے ایسے ہی بال ہوتے ہیں۔'

میرا ہیئرسٹائل 'سکن فیڈ' کہلاتا ہے۔ میرے سر کے مختلف حصوں کے بال بڑے چھوٹے ہیں۔ کانوں کے پاس سے بال کٹے ہوئے ہیں، پھر جوں جوں آپ اوپر جاتے ہیں، بال بڑھتے جاتے ہیں، حتیٰ کہ سر کی چوٹی پر جا کر بالوں کی لمبائی نارمل ہو جاتی ہے۔ یہ سٹائل برطانیہ میں بہت مقبول ہے، خاص طور پر برطانوی ایشیائیوں میں۔

اب مجھے پتہ چل گیا کہ مجھے پاکستان میں اچھا حجام کہاں سے مل سکتا ہے۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں بال کٹوانے کے لیے میرپور جاؤں گا۔

میرپور کو پہلی نظر میں دیکھا تو مایوسی ہوئی۔ یہ پاکستان کے دوسرے شہروں ہی کی طرح تھا۔ البتہ بالوں والی بات درست تھی۔ 40 سے کم عمر کے ہر مرد کا ہیئر سٹائل سکن فیڈ ہی تھا۔

1960 کی دہائی میں ہزاروں میرپوری پاکستان چھوڑ کر بریڈفور اور برمنگھم کے کارخانوں میں کام کرنے کے لیے برطانیہ جا پہنچے۔ ایک اندازے کے مطابق 70 فیصد پاکستانی نژاد برطانویوں کا تعلق اسی شہر سے ہے۔ یہاں کے ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد انگلینڈ میں مقیم ہے۔ اس لیے جب برطانیہ سے نوجوان یہاں آتے ہیں تو مقامی لوگ ان کے ہیئر سٹائل کی نقل کرتے ہیں۔

میرے گائیڈ ارسلان شبیر ایک مقامی یوٹیوب سٹار ہیں جن کے مداح انگلینڈ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ سفید شلوار قیمص کے علاوہ ان کے جسم کا ہر انچ برطانوی لگتا ہے۔ انھوں نے سائیڈوں سے بال شیو کروا رکھے ہیں، گردن پر ان کے نام کا ٹیٹو موجود ہے، جب کہ کانوں میں مصنوعی ہیرے کے بندے ہیں۔ ایک سونے کا دانت ان کی مسکراہٹ کو مزید چمکا دیتا ہے۔ لیکن جب مقامی زبان میں ہی مجھے بتانے کی کوشش کی تو مجھے سمجھنے میں مشکل پیش آئی۔

وہ مجھے بقول ان کے میرپور کے سب سے اچھے حجام کے پاس لے گئے۔ وہاں ایک شخص بیٹھا داڑھی بنوا رہا تھا جب کہ حجام کے بال بھی سکن فیڈ سٹائل میں تھے۔

راجہ نے، جو وہاں داڑھی بنوا رہے تھے، مجھے بتایا کہ ٹھیک ہے یہ سٹائل انگلینڈ سے نکلا ہو گا لیکن اب یہ میرپوری سٹائل بن گیا ہے۔ وہ خود کبھی انگلینڈ نہیں گئے لیکن ان کے رشتے دار برمنگھم میں رہتے ہیں۔ 'کیا میں کہیں سے بھی پاکستانی لگتا ہوں؟' انھوں نے مجھے اپنے فون پر سیلفیاں دکھاتے ہوئے کہا۔

تاہم ان لوگوں کا برطانیہ کے ساتھ تعلق بڑا پیچیدہ ہے۔ ایک گاہک نے بتایا کہ وہ انگلینڈ گئے تھے لیکن انھیں ایک لڑکی نے لیڈز میں شادی کا جھانسا دے کر لوٹ لیا۔

ایک اور گاہک کی جلد ہی شادی ہونے والی ہے۔ دلھن ان کی کزن ہے اور برطانیہ میں رہتی ہے۔

میرپور انگلینڈ سے اس مخصوص تعلق کی وجہ سے پورے علاقے میں منفرد ہے۔ یہاں لوگوں نے بڑے بڑے محلات بنا رکھے ہیں جن میں مینار اور روشیں بھی ہیں۔

ارسلان بشیر کہتے ہیں کہ ان کے بیشتر پاکستانی نژاد برطانویوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ انھوں نے مجھے اپنے یوٹیوب مداحوں سے ملوایا جو کالے چشمے آنکھوں پر لگائے اور منھ میں سگریٹ دابے ایسے لگ رہے تھے جیسے وہ میگالف کے علاقے میں گھوم رہے ہوں۔ ان کا تعلق بریڈفورڈ سے تھا۔

ارسلان کو ان کی طرف سے ملنے والی توجہ پسند ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ انھیں ان لوگوں سے نفرت ہے جو نئے نئے برطانیہ آنے والے رشتہ داروں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ 'آخر ان کے والدین کہاں سے آئے ہیں؟ یہیں سے جہاں سے ہم سب آئے ہیں۔'

اب حجام کی دکان پر میری باری ہے۔ انھوں نے ایک الیکٹرک ریزر اٹھا کر مجھے بتایا کہ میرپور میں سکن فیڈ سب سے پہلے انھی نے شروع کیا تھا۔

انھوں نے کہا: 'چند دن پہلے ایک برطانوی گاہک مجھ سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے مجھے نوکری کی پیشکش کی ہے۔۔۔۔ لندن میں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں