کیا حکومت توانائی کے اہداف حاصل کر پائی ہے؟

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حکومت نے سنہ 2017 کے آخر تک بجلی کی طلب اور رسد میں فرق کو صفر پر لانے، بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی، ترسیل اور تقسیم کے دوران ہونے والے نقصانات کو 16 فیصد تک لانے اور ریکوری کو 95 فیصد تک پہنچانے کے اہداف مقرر کیے تھے مگر توانائی بحران سے نکلنے کے لیے کیا حکومت یہ اہداف حاصل کر پائی ہے؟

پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے ذرائع کون سے ہیں؟

پاکستان میں پانچ بڑے ذرائع سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے ان میں پانی، تھرمل، ہوا، شمسی اور ایٹمی توانائی شامل ہیں۔ تھرمل ذرائع میں فرنس آئل، گیس، کوئلہ، بائیو ڈیزل شامل ہیں۔ اسی سال باگاس اور شمسی توانائی سے بھی بجلی پیدا کرنے کے لیے پلانٹس نے کام کرنا شروع کیا ہے۔

'اس سال بھی پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہیں'

'بجلی کے نظام پر تقریباً تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری'

حزب اختلاف کا لوڈشیڈنگ پر توجہ دلاؤ نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ملک میں کتنے پاور پروڈکشن یونٹ کام کر رہے ہیں؟

سنہ 2016 میں جاری ہونے والے پاور سسٹم شماریات کے مطابق ہائیڈل ذرائع کی بنیاد پر ملک میں کل 23 پاور پلانٹس جب کہ گیس کے 23، فرنس آئل کے 15، نیوکلیئر کے دو اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اب 12 پن بجلی گھر، شمسی توانائی کے چار اور کوئلے کے دو پاور پلانٹ کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض دیگر ذرائع سے بجلی حاصل کرنے کے نو پلانٹس بھی کام کر رہے ہیں۔

ملک کے موجود بجلی گھروں میں سرکاری اور غیر سرکاری کتنے ہیں؟

پاور سسٹم شماریات کے سنہ 2016 کے مطابق ملک میں 53 آئی پی پیز جب کہ 33 سرکاری پاور پلانٹس کام کر رہے ہیں۔ سرکاری پاور پلانٹس میں واپڈا ہائیڈرو کے 19، اور 15 جینکوز شامل ہیں۔ سرکاری طور پر کام کرنے والے پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار 49 ہزار گیگا واٹ آور سے زائد جب کہ آئی پی پیز سے 51 ہزار گیگا واٹ آور رہی۔

ان پاور پلانٹس کی اصل استعداد کیا ہے اور یہ عملی طور پر کتنی بجلی پیدا کر رہے ہیں؟

پاور سسٹم شماریات کے سنہ 2016 کے مطابق واپڈا ہائیڈرو پلانٹس کی کل استعداد 6,902 میگا واٹ، جب کہ پیداوار 33 ہزار گیگا واٹ آور رہی، اسی طرح جینکوز کی کل پیداواری صلاحیت 8,000 میگا واٹ جب کہ پیداوار 25 ہزار گیگا واٹ آور رہی۔ آئی پی پیز (تھرمل) کی نو ہزار میگا واٹ پیداواری صلاحیت کے مقابلے میں کل پیدوار 53 ہزار گیگا واٹ آور تھی۔

نیوکلئیر پاور پلانٹس کی کل استعداد 414 میگا واٹ اور پیداوار4,207 گیگا واٹ آور رہی۔ اسی طرح ہوا سے 306 میگا واٹ استطاعت اور 786 گیگا واٹ آور جنریشن رہی۔ رپورٹ کے مطابق جون سنہ 2016 تک بجلی کی طلب 25 ہزار میگا واٹ تھی۔

اس کے علاوہ وزارت پانی و بجلی کے مطابق گذشتہ چار سالوں میں ہائیڈل کے آٹھ ، پن بجلی کے 14، تھرمل کے آٹھ، بساج کے چھے جب کہ نیوکلئیر کا ایک پلانٹ نصب کیا ہے۔ جن کی مجموعی صلاحیت پانچ ہزار میگا واٹ بتائی جاتی ہے۔

کل استعداد اور حاصل پیداوار میں فرق کی وجوہات کیا ہیں؟

سابق چیئر مین نیپرا فضل اللہ قریشی کا کہنا ہے کہ ’پاور پلانٹس کی استعداد اور پیداوار میں فرق کی بڑی وجوہات میں سے ایک بجلی گھروں کی پرانی اور غیر معیاری مشینوں کی اپ گریڈیشن نہ ہونا ہے جس سے پیداواری لاگت میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے تاہم بجلی کی پیداوار انتہائی کم ہوتی ہے۔‘

وزارت پانی و بجلی کے حکام کے مطابق ترسیلی نقصانات کے باعث گذشتہ چار سال میں 135 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد نقصان ہو چکا ہے۔

وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’2018 کے آخر تک پاکستان کی پیداواری صلاحیت 30 ہزار میگا واٹ تک پہنچ جائے گی۔‘

تاہم ماہرین کے مطابق اگر یہ اضافہ ہو بھی گیا تو ’ملک کی ٹرانسمیشن لائنز اپ گریڈ نہ ہونے کی وجہ سے صرف 18 ہزار میگا واٹ بجلی کی ترسیل ہی کرسکتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA

موجودہ دور میں لائن لاسز میں بہتری آئی یا نہیں؟

سنہ 2013 میں لائن اور ڈسٹری بیوشن لاسز 20.12 فیصد تھے تاہم جون سنہ 2016 کی رپورٹ کے مطابق ان میں کمی آئی اور یہ 19.17 فیصد ہو گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لائن اور ڈسٹری بیوشن لاسز میں خاطر خواہ کمی کے لیے پورے نظام کی اپ گریڈیشن میں ترجیحی بنیادوں پر تیزی لانا ہوگی۔

پاکستان کے پاور سیکٹر میں گردشی قرضوں کا کیا مسئلہ ہے؟

گردشی قرضہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک پارٹی رقم نہ ہونے کی بدولت سپلائیرز کو عدم ادائیگی کرے۔ ایسا ہونے کی صورت میں سپلائی چین میں موجود تمام سٹیک ہولڈر متاثر ہوتے ہیں اور ادائیگیاں رک جاتی ہیں جس کی وجہ سے آپریشنل مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور اس کا نتیجہ لوڈ شیڈنگ کی صورت میں نکلتا ہے۔

آئل ریفائنریز مارکیٹ میں آئل بیچتی ہیں۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں یہ تیل آئی پی پیز یا سرکاری بجلی گھروں کو بیچتی ہیں۔ یہاں تیل سے بجلی پیدا کی جاتی ہے اور اسے تمام تقسیم کار کمپنیوں کو بیچا جاتا ہے۔ یہ کمپنیاں بجلی صارفین تک پہنچاتی ہیں جہاں سے بلوں کی صورت میں رقم وصول کی جاتی ہے۔ ان تمام مراحل میں کسی بھی سطح پر عدم ادائیگی گردشی قرضے کا باعث بنتی ہے۔

سابق چیئرمین نیپرا فضل اللہ قریشی کہتے ہیں کہ ’سردیوں میں چونکہ ہمارے بجلی گھر فرنس آئل پر منتقل ہو جاتے ہیں، جو کہ بہت مہنگا ہے، اس کے علاوہ ہماری ناقص مشینیں یہ آئل کئی گنا زیادہ استعمال کرتی ہیں، ہم ادائیگیاں کر نہیں پاتے، سرکاری پاور پلانٹس کم بجلی پیدا کرتے ہیں، عدم ادائیگیوں کی بدولت آئی پی پیز بھی بجلی نہیں دیتے، بحران بھی پیدا ہوتا ہے اور گردشی قرضہ بھی بڑھتا ہے۔‘

سرکاری دستاویزات کے مطابق موجودہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی گردشی قرضوں کی مد میں 480 ارب روپے ادا کیے تاہم ایک ہی سال میں یہ قرضے دوبارہ 350 ارب روپے تک پہنچ گئے۔

ماہرین کے مطابق اقتدار میں آنے والی ہر حکومت نے مسئلے کا فوری حل چاہا تاہم بنیادی مسائل کے دیرپا حل کے لیے مناسب حکمت عملی کی تشکیل سے گریز کیا جس کی وجہ سے ملک اس بحران کا شکار ہوا جب کہ وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ یہ قرضے اب 360 ارب روپے ہو چکے ہیں۔

گردشی قرضوں اور اس جیسے دیگر مسائل کا حل کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سابق چیئرمین نیپرا فضل اللہ قریشی کہتے ہیں کہ ’مہنگی بجلی پیدا کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے، جو بالآخر قرضوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔‘

پاکستان میں جب بجلی گھروں کی منصوبہ بندی اور تعمیر کی گئی، فرنس آئل کی قیمت 1,500 روپے فی ٹن تھی لیکن سنہ 2013 میں یہ 72 ہزار روپے فی ٹن ہو چکی تھی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1985 تک پاکستان میں 67 فیصد بجلی پانی اور 33 فیصد بجلی تھرمل ذرائع سے پیدا کی جا رہی تھی مگر آج صورت حال یہ ہے کہ 65 فیصد بجلی تھرمل اور 35 فیصد پانی سے حاصل ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف گردشی قرضوں میں اضافے کا ذمہ دار وزارت خزانہ اور نیپرا کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’نرخ (ٹیرف) مقرر کرتے وقت ہم سے رائے نہیں لی جاتی جس کی وجہ سے قرضوں کی مد میں بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریکوریز کی مد میں بڑے پیمانے پر بہتری آئی ہے تاہم ’جو بجلی کا بل ادا نہیں کرے گا اسے بجلی نہیں دی جائے گی اور وہ علاقے جہاں فیڈرز کو 50 فیصد سے کم وصولیاں ہو رہی ہیں وہاں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہے گا۔‘

تاہم تجزیہ کار وفاقی وزیر کے اس اقدام کی حمایت نہیں کرتے۔ فضل اللہ قریشی کا کہنا ہے کہ 'بجلی کے بلوں کی مد میں عدم ادائیگی کرنے والے علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑھانا ان شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے جو بل ادا کرتے ہیں اور وہ قانونی چارہ جوئی کا حق بھی رکھتے ہیں'۔

ماہرین کے مطابق گردشی قرضوں کے خاتمے کے لیے حکومت کو مناسب، قابل عمل اور دیرپا حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔

ملک میں لوڈ شیڈنگ کی صورت حال کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پورے ملک میں لوڈ شیڈنگ جاری ہے تاہم خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ صرف ان علاقوں میں ہے جہاں عدم ادائیگیاں اور بجلی چوری کی جاتی ہے۔

ان کے مطابق ایسے علاقے بھی ہیں جہاں ’اب ہر روز 20 گھنٹے بجلی بند رکھی جاتی ہے کیونکہ ان علاقوں کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی بجلی کے بل ادا نہیں کرتی ہے۔‘

وزارتِ پانی و بجلی نے اپریل میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھاتے ہوئے شہروں میں چھ جبکہ دیہی علاقوں میں آٹھ گھنٹے کر دیا تاہم اسی ماہ گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا تو لوڈشیڈنگ 18 گھنٹے کر دی گئی اور بجلی کا شارٹ فال چھے ہزار میگا واٹ کو پہنچ گیا۔

موجودہ دور حکومت میںبجلی کی طلب اور پیداوارکیا رہی؟

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بجلی کی کل استعداد میگا واٹ تھی جس میں سب سے زیادہ یعنی میگا واٹ استعداد آئی پی پیز (تھرمل) کی تھی۔ جون سنہ 2016 تک بجلی کی کل استعداد میں صرف 2,080 میگا واٹ اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 25 ہزار 47 میگا واٹ ہو گئی۔ اس بار بھی سب سے زیادہ یعنی 9,129 میگا واٹ استعداد آئی پی پیز (تھرمل) کی تھی۔

سنہ 2013 میں بجلی کی طلب 21 ہزار 605 میگا واٹ تھی جس میں سنہ 2016 تک چار ہزار 789 میگا واٹ کا اضافہ ہوا اور یہ 26 ہزار 394 میگا واٹ کو پہنچ گئی۔

خیال رہے کہ سنہ 2013 میں بجلی کی طلب ملک میں بجلی پیدا کرنے کی کل استعداد سے کم تھی لیکن سنہ 2016 میں بجلی کی طلب کل استعداد سے بھی بڑھ گئی۔

سنہ 2013 میں بجلی گھروں سے ایک لاکھ چار ہزار 980 گیگا واٹ آور بجلی بنائی گئی اور سنہ 2016 میں ایک لاکھ 18 ہزار 426 گیگا واٹ آور بجلی حاصل ہوئی۔ اس طرح بجلی کی پیداوار میں اضافہ صرف 14 ہزار 333 گیگا واٹ آور ہو سکا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق سنہ 2013 میں بجلی کا شارٹ فال پانچ ہزار 250 میگا واٹ تھا تاہم وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اب یہ شارٹ فال تقریباً چار ہزار ہے جب کہ طلب میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔'

اسی بارے میں