مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا آخری سال اور پانچواں بجٹ: ’دفاعی بجٹ میں 79 ارب کا اضافہ‘

بجٹ تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption اسحٰق ڈار کے پیش کردہ پانچواں بجٹ میں بھی ماضی کے چار بجٹس کی طرح کسانوں کے لیے مراعاتی پیکج اور غریب لوگوں کی مالی مدد کے لیے رقوم مختص کی گئی ہیں۔

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے جمعے کی شام پارلیمان کے سامنے اپنی حکومت کا پانچواں اور ممکنہ طور پر آخری بجٹ پیش کیا جس میں گذشتہ چار بجٹس کی طرح اس بار بھی زیادہ توجہ مواصلات کے نظام اور توانائی کے شعبے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

اسحٰق ڈار کے پیش کردہ پانچواں بجٹ میں بھی ماضی کے چار بجٹس کی طرح کسانوں کے لیے مراعاتی پیکج اور غریب لوگوں کی مالی مدد کے لیے رقوم مختص کی گئی ہیں۔

’ایسا نہیں ہوسکتا کہ بجٹ ہر مہینے پیش ہو‘

پاکستان کا بجٹ 18-2017: کب کیا ہوا؟

پاکستان کے ٹیکس نظام میں بہتری یا مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے اس بار بھی بجٹ میں کوئی نمایاں اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

ترقیاتی بجٹ

حکومت نے 1001 ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لیے مختص کیے ہیں جن کا ایک بڑا حصہ یعنی 401 ارب روپے توانائی کے شعبے کے لیے رکھے گئے ہیں جن میں بڑا حصہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے خرچ کیا جائے گا۔

اس رقم کو خرچ کر کے حکومت کا خیال ہے کہ وہ اگلے سال تک بجلی کی پیداوار میں 10 ہزار میگا واٹ تک کا اضافہ کر سکے گی۔ اس کے علاوہ 320 ارب روپے شاہراہوں اور پلوں کی تعمیر پر خرچ ہوں گے۔ ان میں سی پیک کے تحت بننے والی شاہراہیں بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ریلیف اقدامات

حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اس کا اثر اس سے کہیں زیادہ ہوگا کیونکہ حکومت نے 2009 اور 2010 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں دیے جانے والے ایڈہاک ریلیف الاؤنس بنیادی تنخواہ میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس اضافہ شدہ تنخواہ کے دس فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی دس فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ فوجی افسروں اور جوانوں کی خدمات کے پیش نظر ان کی تنخواہوں میں مزید دس فیصد کا عبوری الاؤنس شامل کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دفاعی بجٹ

حکومت نے دفاعی بجٹ میں قریباً 9 فیصد اضافہ کر کے اسے 920 ارب روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔ پچھلے سال یہ اضافہ 11 فیصد تک تھا۔ حکومت کئی برس سے ملکی دفاعی بجٹ میں افراط زر کے تناسب سے اضافہ کرتی رہی ہے اور اس بار بھی یہ روایت برقرار رکھی گئی ہے۔

زراعت

زرعی شعبے کی ترقی کے لیے وفاقی حکومت نے تین برس قبل جو کسان پیکج دیا تھا حالیہ بجٹ میں اسی پیکج کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ نئے اقدامات میں ساڑھے بارہ ایکڑ زمین کے مالک کسانوں کے لیے 50 ہزار روپے تک کے قرضوں کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وزیر خزانہ نے کسانوں کو یقین دلایا کہ اس سال کے دوران کھاد کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ٹیکس

وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر میں ٹیکس نظام میں اصلاحات یا نئے لوگوں کو ٹیکس نظام میں لانے کے لیے اقدمات کا ذکر نہیں ہے لیکن انھوں نے موبائل فونز پر ٹیکسوں میں کمی اور سگریٹ میں ٹیکسوں میں اضافے کا اعلان کیا۔

اس کے علاوہ انھوں نے بعض اقدامات کا اعلان کیا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت سٹاک مارکیٹ سے مزید آمدن کی توقع کر رہی ہے۔ جو لوگ ٹیکس گوشوارے جمیع نہیں کرواتے ان کے لیے بلواسطہ ٹیکسوں کی شرح میں بھی اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی بارے میں