’ایسا نہیں ہوسکتا کہ بجٹ ہر مہینے پیش ہو‘

بجٹ تصویر کے کاپی رائٹ EPA

قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوا تو وزیراعظم نواز شریف ایوان میں تشریف لائے تو اُن کی باڈی لینگویج سے ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اُنھوں نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہے۔

وزیراعظم کو فخر ہونا بھی چاہیے کیونکہ پہلی مرتبہ اُن کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ ن نے پانچواں بجٹ پیش کیا ہے۔ ماضی میں قائم ہونے والی مسلم لیگ ن کی دو حکومتیں صرف تین تین مرتبہ ہی بجٹ پیش کرسکیں۔

پاناما کیس اور ڈان لیکس کے معاملے کے باوجود نواز شریف کی باڈی لینگویج بڑی پراعتماد تھی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ ، جنھوں نے اپنے بازو پر سیاہ پٹی پہنی ہوئی تھی، کے سے ہاتھ ملانے کے بعد نواز شریف قائد ایوان کی سیٹ پر بیٹھ گئے۔

قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے آرڈر آف دی ڈے پڑھ کر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو تقریر کرنے کی اجازت دی تو حزب مخالف کی جماعتوں نے اسلام آباد میں کسانوں کے مظاہرے پر پولیس اہلکاروں کی طرف سے ہونے والے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال پر شدید احتجاج کیا لیکن اس کے باوجود قومی اسمبلی کے سپیکر نے اسحاق ڈار کو سنہ 2017 اور سنہ 2018 کا بجٹ ایوان میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

حزب مخالف کی جماعتوں میں سب سے زیادہ احتجاج قومی اسمبلی میں آزاد رکن جمشید دستی نے کیا جنھوں نے نہ صرف وزیر خزانہ کی لکھی ہوئی تقریر کو پھاڑا بلکہ حزب مخالف کے دیگر ارکان کی ڈیسک پر رکھی ہوئی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔

جمشید دستی نے صرف اس پر ہی بس نہیں کی بلکہ وزیراعظم کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ان کی نشت کے سامنے کھڑے ہو کر اسحاق ڈار کی تقریر کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں بکھیر دیں۔ نواز شریف نے جمشید دستی کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا رخ دوسری جانب کرلیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پانی وبجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی جمشید دستی کی اس حرکت پر اُن کی طرف لپکے لیکن حکمراں جماعت کے ارکان نے اُنھیں ایسا کرنے سے روک دیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جبکہ اُن کی جگہ شاہ محمود قریشی اپنی جماعت کی قیادت کر رہے تھے لیکن اُن کی قیادت میں ایوان کے اندر پی ٹی آئی زیادہ متحرک دکھائی نہیں دیتی تھی۔

ڈاکٹر شریں مزاری ’گو نواز گو‘ کے نعرے لگاتی رہیں لیکن اُن کی جماعت سمیت حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کوئی بھی رکن اس نعرے میں اُن کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی کے تین ارکان نے شاہ محمود قریشی کی بات کو نظر انداذ کرتے ہوئے اسمبلی کی کارروائی کا بایئکاٹ نہیں کیا۔

بائیکاٹ کے معاملے پر حزب مخالف کی جماعتیں منقسم نظر آئیں سب سے پہلے متحدہ قومی موومنٹ نے ایوان سے واک آوٹ کیا اس کے کچھ دیر کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی ۔ حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت کو باہر جاتا ہوئے دیکھ کر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان بھی ایوان سے چلے گئے۔

بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بائیکاٹ کے بعد ارکان کی لابی میں حزب مخالف کی جماعتیں کوئی لائحہ عمل تیار کرنے میں ناکام رہیں اور بائیکاٹ کے ٹھیک دو منٹ کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم ایوان میں واپس آگئی۔

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے وزیر اعظم سے کچھ بات کرنے کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس گئے اور اُنھوں نے ایم کیو ایم کے رہنما کے ساتھ کچھ باتیں کی اور پھر دوبارہ اپنی نشست پر آگئے۔

ایم کیو ایم کے احتجاج ختم کرنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی بھی ایوان میں واپس آگئی جبکہ اس کے کچھ دیر کے بعد پی ٹی آئی کے ارکان بھی پارلیمنٹ کی بالادستی کو سامنے رکھنتے ہوئے واپس آگئے۔

حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان احتجاج ختم کرنے کے بعد ایسے خاموشی سے آکر اپنی نشستوں پر آگئے جیسے اُن کی جماعت کا کوئی رکن وفاقی بجٹ پیش کر رہا ہو۔

اسحاق ڈار جب بجٹ پیش کر رہے تھے تو ایوان کی اکثریت نے ان دستاویز کو کھول کر پڑھنے کی بھی زحمت گوارہ نہیں کی اور اجلاس ختم ہونے کے بعد دس کلو سے زائد وزنی کتابیں بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

جب اجلاس ختم ہوا تو کچھ صحافیوں نے اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ارکان اسمبلی سے بجٹ دستاویز حاصل کرنے کی کوشش کی جس میں چند ایک تو کامیاب رہے جبکہ صحافیوں کی اکثریت تمام دستاویز حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات ونشریات کے ماتحت ادارے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے بجٹ اجلاس کی کوریج کے لیے ملک بھر سے ایک سو سے زائد صحافیوں کو اسلام آباد بلایا اوران کے قیام و طیام کے اخراجات بھی اٹھائے۔

قومی اسمبلی کی پریس گیلری ان صحافیوں سے بھری ہوئی تھی اور ان میں سے چند صحافی اُنھیں ملنے والی سہولتوں کی تعریف کرتے ہوئے ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ ’ایسا نہیں ہوسکتا کہ بجٹ ہر مہینے پیش ہو۔‘

اسی بارے میں