چمن: پاک افغان سرحد 22 روز کی بندش کے بعد کھول دی گئی

سرحد تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فورسز کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں پاکستان حدود میں اپنی پوزیشن کو برقرار رکھیں گے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی ضلعے قلعہ عبد اللہ کے علاقے چمن سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باب دوستی کو 22روز بعد کھول دیا گیا۔

پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کے مطابق افغان حکام کی درخواست پر رمضان میں چمن سے باب دوستی کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کھول دیا گیا ۔

پاک افغان کشیدگی: ’پاکستانی فوج جہاں ہے وہیں رہے گی‘

’دیکھو یہ تین دن پرانی روٹی ہے‘

افغانستان کی 50 اہلکاروں کی ہلاکت کے پاکستانی دعوے کی تردید

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق آئی ایس پی آر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحد پر منقسم دیہات کلی جہانگیر اور کلی لقمان میں مردم شماری کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق پاکستانی حکام نے سیز فائر کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم کوئی بھی سرحدی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فورسز کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں پاکستان حدود میں اپنی پوزیشن کو برقرار رکھیں گے۔

واضح رہے کہ بظاہر مردم شماری کے معاملے پر اس ماہ کے اوائل میں افغان فورسز اور پاکستانی فورسز کے درمیان چمن کے سرحدی علاقے میں جھڑپ ہوئی تھی۔

اس جھڑپ کے باعث پاکستانی حدود میں افغان فورسز کی گولہ باری سے 12 افراد ہلاک اور40 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

پاکستانی حکام کی جانب سے 50 افغان بارڈر فورسز کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا لیکن افغان حکام نے اس دعوے کو مسترد کیا تھا اور صرف دو اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

اس واقعے کے بعد سرحد کو بند کیا گیا تھا جس سے دونوں جانب عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاکستانی تاجروں نے کہا تھا کہ سرحد کی بندش کے باعث پاکستانی تاجروں کا سب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں