پاناما لیکس: حسین نواز کو آج جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ Daily NHT

پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی چھ رکنی جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم نے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے بیٹے حسین نواز کو آج یعنی اتوار کو پیش ہونے کا نوٹس بھیجا ہے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ ذرائع کے مطابق جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے ہفتے کو حسین نواز کو نوٹس بھیجا کہ 28 مئی کو ٹیم کے سامنے پیش ہوں۔

اطلاعات کے مطابق حسین نواز اس وقت لندن میں ہیں۔

پاناما لیکس کی تحقیقاتی ٹیم پر اعتراض، سماعت 29 مئی کو

تحقیقاتی ٹیم کو ساٹھ دن سے زیادہ نہیں ملیں گے: سپریم کورٹ

وکلا میں تصادم، وزیرِاعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پاناما لیکس کے حوالے سے پیش کردہ بل نامنظور

یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی چھ رکنی ٹیم کے دو ارکان پر اعتراض کیا ہے۔ اس درخواست پر سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ29 مئی کو سماعت کرے گا۔

حسین نواز نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے اہلکار بلال رسول اور سٹیٹ بینک کے عامر عزیز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

درخواست میں موقف یہ اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں افراد کا تعلق سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف اور سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ قاف سے ہے جبکہ سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے اہلکار بلال رسول کی اہلیہ 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ قاف کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر امیدوار بھی تھیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں افسران نے ان کے والد نواز شریف کے خلاف حدیبہ پیپرز ملز کے مقدمے میں تحقیقات کی تھی لہذٰا ایسے حالات میں مذکورہ افسران جانبداری کا مظاہرہ کریں گے اور اس سے نہ صرف مقدمہ اثر انداز ہو گا بلکہ یہ آئین اور قانون کے بھی منافی ہو گا۔

عدالت نے اس ضمن میں فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور پیر 29 مئی کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ درخواست کی سماعت کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الزام سچ ثابت ہونے کی صورت میں یہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ٹوٹ سکتی ہے جس کی وجہ سے پاناما لیکس کی تحقیقات کا سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی دو ماہ کی مدت میں مکمل ہونا مشکل ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ 22 مئی کو وزیر اعظم اور اُن کے دو بیٹوں کے خلاف پاناما لیکس سے متعلق تحقیقات کرنے والی ٹیم کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے 60 روز سے زیادہ کی مہلت نہیں دی جا سکتی۔

وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف کرپشن کے مقدمہ سننے والے پانچ رکنی بینچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں مزید تحقیقات کے لیے چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔

اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے تین جج صاحبان نے کمیٹی کو ساٹھ دن کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنے کا وقت دیا تھا۔ اس کے علاوہ ٹیم کے لیے وضع کیے گئے ضوابط کمیٹی کو ہر 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ تینی رکنی بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں