حسین نواز کے پاناما لیکس کی تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان پر اعتراضات مسترد

حسین نواز تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاناما لیکس کی تحقیقات کی نگرانی کے لیے بنائے گئے پاکستان کی سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی طرف سے تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان پر کیے جانے والے اعتراضات مسترد کر دیے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کا کہنا ہے کہ محض شکوک و شبہات کی بنا ہر کسی بھی کسی بھی رکن کو تحقیقاتی ٹیم سے نہیں نکالا جا سکتا۔

٭ ’یہ جے آئی ٹی ہے، کوئی چائے پارٹی نہیں‘

٭ پاناما لیکس: حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو گئے

٭ تحقیقاتی ٹیم کو ساٹھ دن سے زیادہ نہیں ملیں گے: سپریم کورٹ

حسین نواز کو اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے 30 مئی کو پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے اور اُنھیں کہا گیا ہے کہ وہ تمام دستاویزات ہمراہ لے کر آئیں۔

حسین نواز نے سکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کمیشن کے بلال رسول اور سٹیٹ بینک کے عامر عزیز پر اعتراضات کیے تھے۔ ان دونوں افراد پر ان کی سیاسی وابستگیوں اور شریف خاندان کے خلاف پرانے مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شمولیت کی بنیاد پر تحفظات ظاہر کیےگئے تھے۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حسین نواز کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

حسین نواز کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ارکان نہ صرف جانبدار ہیں بلکہ اُن کا رویہ بھی درست نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے نواز خاندان کے بزنس پارٹنر طارق شفیع کو بلایا اور اُنھیں بلانے کے بعد نہ صرف اُن کی عزت نفس کو مجروح کیا گیا بلکہ اُنھیں ڈرایا دھمکایا بھی گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس ضمن میں اُن کے پاس ویڈیو کلپ بھی موجود ہیں اور اگر عدالت اجازت دے تو وہ ثبوت پیش کر سکتے ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی نظر میں تمام لوگ برابر ہیں چاہے وہ چپڑاسی ہو یا وزیر اعظم۔ اُنھوں نے کہا کہ کسی کی عزت نفس مجروح نہیں ہونی چاہیے۔

جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ ہمیں موجودہ سسٹم میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا اور 'عدالت تحقیقات کے لیے فرشتے کہاں سے لائے جن کی غیر جانبداری پر کوئی انگلی نہ اُٹھا سکے۔'

بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ہر دو ہفتے کے بعد تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں سپریم کورٹ کو آگاہ کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اُنھوں نے کہا کہ اگر اس رپورٹ میں ان دونوں افسران سمیت کسی بھی رکن کا کسی بھی جانب جھکاؤ نظر آیا یا وہ اپنا کام ایمانداری سے نہ کر رہا ہو تو وہ کمیٹی کا رکن نہیں رہے گا۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی کو اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 60 روز کا وقت دیا گیا ہے اور اس عرصے میں ہر حال میں اپنی تحقیقات کو مکمل کرنا ہوگا۔

اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ اُنھوں نے ابھی تک دو افراد کو جے آئی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیے ہیں تاہم دونوں ہی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

٭ جے آئی ٹی کی کارروائی کھلے عام کی جائے: پی ٹی آئی

٭ ’پاناما لیکس سے متعلق عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے اجتناب کریں‘

ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک قطری شاہی خاندان کے رکن حمد بن جاسم ہیں جبکہ دوسرے شخص کاشف مسعود قاضی ہیں جو اس وقت برطانیہ میں مقیم ہیں۔

اس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر قطری شہزادے پیش نہ ہوئے تو قطری خط کی اہمیت ختم ہوجائے گی جس پر وزیر اعظم اور ان کی فیملی انحصار کر رہی ہے۔

عدالت کے استفسار پر تحققیاتی ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان دونوں افراد کو خصوصی انتظامات کے ذریعے سمن بھجوائے گئے ہیں۔

واجد ضیا نے بتایا کہ کاشف قاضی نے سکیورٹی کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ اس بارے میں مناسب احکامات جاری کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف کرپشن کا مقدمہ سننے والے پانچ رکنی بینچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں مزید تحقیقات کے لیے چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔

اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے تین جج صاحبان نے کمیٹی کو ساٹھ دن کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنے کا وقت دیا تھا۔

اس کے علاوہ ٹیم کے لیے وضع کیے گئے ضوابط کے تحت تحقیقاتی کمیٹی کو ہر 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ تین رکنی بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں