پاناما لیکس کی تحقیقات:’یہ جے آئی ٹی ہے، کوئی چائے پارٹی نہیں‘

حسین نواز تصویر کے کاپی رائٹ DAILY NHT
Image caption ’اگر حسین نواز کو یہ نہیں معلوم کہ کونسی دستاویزات لیکر جانی ہیں تو پھر گڈ لک ٹو حسین نواز‘

پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحققیاتی ٹیم کے دو ارکان پر تحفظات کے اظہار پر حکمراں جماعت شاید یہ سوچ رہی تھی کہ عدالت عظمیٰ اُن کے اعتراضات کو منظور کر لے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

البتہ یہ ضرور ہوا کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز کے وکیل کی طرف سے اُٹھائے گئے اعتراضات کو نہ صرف سنجیدگی سے سنا بلکہ اُن کے پوائنٹس بھی نوٹ کیے۔

٭ جے آئی ٹی کے ارکان پر حسین نواز کے اعتراضات مسترد

٭ جے آئی ٹی کی کارروائی کھلے عام کی جائے: پی ٹی آئی

٭ تحقیقاتی ٹیم کو ساٹھ دن سے زیادہ نہیں ملیں گے: سپریم کورٹ

حسین نواز کی طرف سے دائر کی گئی اس درخواست کی سماعت کے دوران جب اُن کے وکیل خواجہ حارث اپنی درخواست کے حق میں مختلف فیصلوں کے حوالے دے رہے تھے تو ایک موقع پر بینچ میں شامل عظمت سعید نے حسین نواز کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اتنی تیزی سے نہ پڑھیں بلکہ آہستہ بولیں کیونکہ عدالت کے معزز جج صاحبان اس کو نوٹ کر رہے ہیں اور اس معاملے میں 'ہم آپ سے زیادہ سنجیدہ ہیں۔'جس پر کمرہ عدالت میں ایک زوردار قہقہ بلند ہوا۔

وزیراعظم کے صاحبزادے کے وکیل کا رویہ جارحانہ تھا اور عدالت کے روکنے کے باوجود بھی وہ اپنے دلائل جاری رکھتے جبکہ اس کے برعکس پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل پرسکون انداز میں دلائل دیتے تھے۔

سماعت کے دوران ایک موقع پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ تحققیاتی ٹیم مرحلہ وار بتائے کہ اُسے وزیر اعظم کے صاحبزادوں سے کیا کیا دستاویزات چاہیں جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ تحققیاتی ٹیم کو 'ڈکٹیٹ' کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ ملزم کی خواہش پر تفتیش کی جائے۔

ایک موقع پر بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر حسین نواز کو یہ نہیں معلوم کہ کونسی دستاویزات لیکر جانی ہیں تو پھر'گڈ لک ٹو حسین نواز۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزیراعظم کے صاحبزادے کے وکیل کا رویہ جاحانہ تھا اور عدالت کے روکنے کے باوجود بھی وہ اپنے دلائل جاری رکھتے

سماعت کے دوران عدالت نے اُن سیاست دانوں کا نام لیے بغیر اُنھیں تنقید کا نشانہ بنایا جو سپریم کورٹ کی غیر جانبداری کو متنازع بناتے ہیں۔

بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے حسین نواز کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب عدالت میں کسی ملزم یا گواہ پر جرح کی جاتی ہے تو کیا پہلے اس کو بتایا جاتا ہے کہ کون سا سوال پہلے پوچھا جائے گا اور کونسا آخر میں۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ 'جے آئی ٹی ہے، کوئی چائے پارٹی نہیں۔'

سماعت کے دوران حکمراں جماعت اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کارکن ایک ایک کر کے کمرہ عدالت میں آئے۔

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی بجائے اس جماعت کے ترجمانوں کی تعداد زیادہ تھی۔

سماعت کے بعد جب دونوں جماعتوں کے تھرڈ لائن لیڈر شپ سپریم کورٹ کے باہر آئی تو میڈیا سے پہلے بات کرنے پر ان کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی تاہم حکمراں جماعت کے دانیال عزیز اور محسن شاہنواز رانجھا نے یہ موقف اپناتے ہوئے کہ چونکہ وہ پہلے آئے ہیں اس لیے میڈیا سے بات کرنے کا حق اُنہی کا ہے۔

اُنھوں نے پی ٹی آئی کے ارکان کو پیچھے دھکیل دیا اور پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف خوب دل کی بھڑاس نکالی۔

پی ٹی آئی کے متعدد ترجمان جن میں نعیم الحق اور فواد چوہدری شامل ہیں، درخت کی چھاؤں میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتے رہے اور پھر اپنی باری پر اُنھوں نے وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اسی بارے میں