’ٹرافی ہنٹنگ سے مارخور کی تعداد میں اضافہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Manzoor

پاکستان میں جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی جانور مارخور کی معدوم ہوتی نسل کو بچانے کےلیے حکومت کی طرف سے شروع کی گئی ٹرافی ہنٹنگ کی سکیم کافی حد تک کامیاب رہی ہے جس سے اس جانور کی تعداد ہر سال بڑھتی جارہی ہے۔ تاہم اس کے باوجود اس نایاب جانور کو بدستور خطرے میں شمار کیا جارہا ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے چترال، شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ بلوچستان میں مارخور کے کئی قسمیں پائی جاتی ہیں۔ تاہم ان میں استور مارخور، کشمیر مارخور، سلیمان مارخور اور چلتن مارخور قابل ذکر ہیں۔ پاکستان کے علاوہ افغانستان، انڈیا، تاجکستان اور ازبکستان میں بھی اس نایاب نسل کا جانور پایا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں محکمہ جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق 80 کی دہائی میں ملک بھر میں مارخور کے غیر قانونی شکار کے باعث اس کے نسل کے ختم ہونے کے شدید خطرات لاحق ہوگئے تھے۔ حکومت اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سرگرم عالمی اداروں کی شراکت سے ٹرافی ہنٹنگ کی سکیم شروع کی گئی۔ اس سکیم کا بنیادی مقصد مارخور کے شکار کو کنٹرول میں لانا تھا اور اس کے علاوہ مقامی آبادی کو بھی اس پورے عمل میں شامل کرنا تھا تاکہ اس نایاب جانور کے نسل کو بچایا جاسکے۔

خیبر پختونخوا میں مارخور کے ٹرافی ہنٹنگ سکیم شروع کرنے کے عمل میں عملی طور پر شریک رہنے والے ہری پور یونیورسٹی میں جنگلی حیات کے ماہر اور سابق چیف کنزرویٹر ڈاکٹر محمد ممتاز ملک کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں سب سے پہلے اس صوبے میں مارخور کی نسل کو تحفظ دینے کے لیے ٹرافی ہنٹنگ کی سکیم شروع کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں چترال واحد ضلع ہے جہاں مارخور بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ابتدا میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں ٹرافی ہنٹنگ کے لیے ہزاروں ڈالر کی بولی لگتی تھی لیکن آج کل پاکستان بھر میں سب سے زیادہ بڑی بولی چترال میں لگتی رہی ہے جہاں گذشتہ سال ایک لاکھ ڈالر میں پرمٹ فروخت ہوا جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Daily Pakistan

ڈاکٹر محمد ممتاز ملک نے مزید بتایا کہ چترال میں گذشتہ کچھ سالوں سے مارخور کی پیدوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور وہاں آج کل تین ہزار سے زیادہ مارخور پائے جاتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان اور بلوچستان میں بھی اس جانور کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے۔

جنگلی حیات کے غیر ملکی اداروں کے مطابق پاکستان میں گذشتہ کچھ سالوں کے دوران مارخور کی پیدوار 20 فیصد تک بڑھی ہے۔

مارخور کا شکار کرنے کےلیے ہر سال امریکہ، برطانیہ، سپین، روس، ترکی اور دیگر یورپی ممالک سے بڑی تعداد میں شکاری لاکھوں روپے خرچ کرکے پاکستان آتے ہیں۔ غیر ملکی شکاریوں کےلیے کسی بھی نایاب جانور کا شکار کرنا ایک بڑا کھیل سمجھا جاتا ہے اور پھر مارخور اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے سینگ دنیا بھر میں منفرد سمجھے جاتے ہیں جنہیں شکاری اپنے پاس ہمیشہ ہمیشہ کےلیے محفوظ کردیتے ہے۔

مارخور کے ٹرافی ہنٹنگ سے ملنے والی رقم کا 80 فیصد مقامی آبادی میں تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ 20 فیصد رقم اس قومی جانور کے تحفظ پر لگا دی جاتی ہے۔ آج کل اس جانور کے تحفط میں مقامی افراد ہی سب سے زیادہ پیش پیش رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق بیشتر رقم علاقے میں بنیادی ڈھانچہ بہتر بنانے پر خرچ کی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Manzoor

گلگت بلتستان میں رورل سپورٹ پروگرام چلاس کے ایک افسر منظور احمد قریشی کا کہنا ہے کہ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی مارخور کی غیر قانونی شکار کی وجہ سے اس کی نسل ختم ہوتی جارہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ حکومت اور عالمی اداروں کی مارخور کی تحفط کے لیے شروع کی گئی ٹرافی ہنٹنگ کی حکمت عملی بہت حد تک کامیاب رہی ہے جس سے یہ جانور کافی حد تک محفوظ ہوچکا ہے۔

ان کے مطابق گلگت بلتستان کے علاقوں سکردو، بونجی، گلگت خاص، جوٹیال نالے، کرغہ نالے، سکندر آباد اور ہنزہ کے مقامات پر اب مار خور بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں اور ان مقامات پر حالیہ دنوں میں کئی کامیاب شکار بھی کیے گئے ہیں۔

منظور قریشی کا مزید کہنا تھا کہ مقامی آبادی کو بیشتر رقم ملنے کی وجہ سے اب وہ اپنے آپ کو اس کے اصل محافط سمجھتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب اس کے غیر قانونی شکار کے امکانات بہت کم رہ گئے ہیں۔

مختلف ملکی اور غیر عالمی اداروں کی طرف سے مارخور کو ان جانوروں کے فہرست میں رکھا گیا ہے جن کے معدوم ہونے کے خطرات بدستور موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ WWF

سابق چیف کنزرویٹر ڈاکٹر محمد ممتاز ملک کا مزید کہنا تھا کہ مارخور کو اس وجہ سے معدوم ہوتے جانوروں کے کیٹگری میں رکھا گیا ہے کیونکہ اس جانور کی دنیا بھر میں تعداد پہلے ہی سے بہت کم ہوتی جارہی ہے اور پھر حکومت یہ نہیں چاہتی کہ اس کے شکار کے کوٹے میں مزید اضافہ کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ اگر اس کو اس کیٹگری سے نکالا گیا تو حکومت پر دباؤ آئے گا کہ اس کے مزید پرمٹ جاری کیے جائیں۔ ان کے بقول پاکستان میں ہر سال مارخور کے شکار کے کل بارہ پرمٹ جاری کیے جاتے ہیں جن میں چار خیبر پختونخوا اور اس طرح چار چار بلوچستان اور گلگت بلتستان کےلیے دیے جاتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات