پاناما کیس: حسین نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے دوسری پیشی

پاناما تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بڑے صاحبزادے حسین نواز پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو گئے

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز منگل کو پاناما لیکس کے معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

یہ گذشتہ تین دن کے دوران دوسرا موقع تھا کہ اس جے آئی ٹی نے انھیں طلب کیا اور ان کی یہ پیشی پانچ گھنٹے تک جاری رہی۔ پیشی کے بعد حسین نواز صحافیوں کے ساتھ مِختصر گفتگو کے بعد روانہ ہو گئے۔

جے آئی ٹی کے ارکان پر حسین نواز کے اعتراضات مسترد

’یہ جے آئی ٹی ہے، کوئی چائے پارٹی نہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم نے ان سے جو سوالات کیے ان کے جواب فراہم کر دیے گئے ہیں تاہم انھوں نے سوالات کی تفصیل نہیں بتائی۔

حسین نواز کا کہنا تھا کہ اگر جے آئی ٹی نے دوبارہ انھیں بلایا تو وہ پھر آئیں گے۔

حسین نواز نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی نے جتنے سوالات پوچھے تھے ان کے جوابات دیے ہیں۔

کمیٹی کے سامنے پیش کردہ دستاویزات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں حسین شریف نے کہا ہے کہ'جو بھی دستاویزات مانگے جائیں گے وہ پیش کریں گے تاہم وہ اپنے قانونی حقوق سے ہٹ کر کوئی بھی دستاویز پیش نہیں کریں گے۔'

تحقیقاتی کمیٹی کے دو رکان پر اپنے اعتراضات پر انھوں نے کہا کہ'اگر کبھی مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ کسی کا رویہ درست نہیں ہے تو وہ یہ امید نہ رکھیں کہ میں عدالت میں نہیں جاؤں گا اور عوام کے سامنے نہیں آؤں گا۔'

اتوار کو پہلی پیشی کے بعد تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے حسین نواز کو ایک سوالنامہ دیا گیا تھا اور انھیں اگلی پیشی پر اس سے متعلقہ دستاویز ساتھ لانے کے لیے کہا گیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق منگل کو حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوئے تاہم جوڈیشل اکیڈمی میں موجود ایک پولیس اہلکار کے مطابق وزیر اعظم کے صاحبزادے کے وکیل کو الگ کمرے میں بٹھایا گیا۔

حسین نواز کی پیشی کے موقع پر حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی مقامی قیادت اور کارکن بڑی تعداد میں اکیڈمی کے باہر موجود تھے تاہم جونھی وزیراعظم کے صاحبزادے اکیڈمی کے اندر گئے مقامی قیادت اور کارکن واپس چلے گئے۔

وزیراعظم نواز شریف کے پولیٹیکل سیکرٹری آصف سعید کرمانی نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حسین نواز اس جے آئی ٹی میں شامل دو افراد پر تحفظات کے باوجود پیش ہوئے ہیں۔

اُنھوں نے دعوی کیا کہ حسین نواز وہ تمام دستاویز ساتھ لائے ہیں جو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے پہلی پیشی کے موقع پر طلب کی تھیں۔

واضح رہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حسین نواز کی طرف سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل دو ارکان پر جن میں سکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے بلال رسول اور سٹیٹ بینک کے عامر عزیز شامل ہیں، اعتراضات کو مسترد کردیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ محض شکوک وشہبات کی بنا پر کسی بھی رکن کو جے آئی ٹی سے الگ نہیں کیا جا سکتا تاہم عدالت نے جے آئی ٹی کے ارکان کو حکم دیا ہے تفتیش کے لیے پیش ہونے والے کسی بھی شخص کے ساتھ ناروا سلوک نہ رکھا جائے اور نہ ہی اُنھیں ڈرایا دھمکایا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں