پشاور میں گلبدین حکمت یار کے قریبی ساتھی کی ہلاکت

نقیب عرف استاد فرید

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے افغان رہنما گلبدین حکمت یار کے قریبی ساتھی استاد فرید کو ہلاک کر دیا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گلبدین حکمت یار نے گذشتہ ماہ افغان حکومت کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

گلبدین حکمت یار کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم

طالبان بھی امن کے کارواں میں شریک ہو جائیں: حکمت یار

پولیس کے مطابق یہ واقعہ آج صبح فجر کی نماز کے بعد بیش آیا ہے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق افغان شہری نقیب محمد عرف استاد فرید پشتہ خرہ کے علاقے تاج آباد میں فجر کی نماز ادا کرنے بعد مسجد سے باہر آ رہے تھے کے موٹر سائکل پر سوار نا معلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئے۔

پولیس کے کہنا ہے کہ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال پہنچا دی گئی ہے جبکہ پولیس حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایک مہینے میں پشاور میں یہ دوسرے اہم افغان رہنما ہیں جنھیں قتل کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گلبدین حکمت یار تیس برس پہلے افغانستان پر سویت قبضے کے خلاف گوریلا مزاحمت میں شامل رہے

گذشتہ ماہ کی 28 تاریخ کو پشاور کے مضافاتی علاقے شمشتو کیمپ کے قریب سابق طالبان رہنما مولوی داؤد اور ان کے ڈرائیور کو نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ مولوی داؤد طالبان دور میں کابل کے گورنر کے عہدے پر فائز رہے تھے۔

نقیب محمد عرف استاد فرید افغان رہنما اور اپنی جماعت حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کے قریبی ساتھی تھے اور وہ ان کے سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ استاد فرید حزب اسلامی افغانستان کی مرکزی شوریٰ کے رکن تھے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ استاد فرید گلبدین حکمت یار کے بیٹے کے سسر بھی تھے۔

نقیب محمد عرف استاد فرید ولد گل محمد ایک عرصے سے یہاں پشاور کے تاج آباد کے علاقے میں رہائش پزیر تھے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ ان کی عمر پچپن سے ساٹھ سال کے درمیان تھی اور اب وہ متحرک سیاست سے کنارہ کش ہو چکے تھے۔

گلدبین حکمت یار اس مہینے کی چار تاریخ کو افغان حکومت سے اختلافات ختم کر کے کابل میں داخل ہوئے تھے۔ حکمت یار کوئی دو دہائیوں تک روپوش رہے جبکہ روس کے افغانستان سے انخلا کے بعد حکمت یار افغانستان کے وزیر اعظم کے عہدے پر بھی رہے ہیں۔

اسی بارے میں