عمران خان کو مالی تفصیلات جمع کروانے کے لیے ایک ہفتے کا وقت

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نعیم بخاری نے بتایا کہ لندن فلیٹ کی فروخت سے عمران خان کو چھ لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ ملے تھے (فائل فوٹو)

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے بنی گالہ کی اراضی خریدنے سے متعلق منی ٹریل اور بیرون ممالک سے جماعت کو حاصل ہونے والی فنڈنگ کے بارے میں تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ نے عمران خان سے نیازی سروسز لمیٹڈ کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں الیکشن کمیشن کو بھی معاونت کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکمران جماعت کے رہنما حنیف عباسی کی طرف سے اثاثے چھپانے پر عمران خان کی نااہلی سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

بینچ کے سربراہ نے عمران خان کے وکیل نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ اُن کے موکل پر الزام ہے کہ عمران خان نے فلیٹ سے متعلق ڈکلیریشن درست نہیں دی جبکہ ایمنیسٹی سکیم پاکستان کے رہائشیوں کے لیے تھی اور نیازی سروسز لمیٹڈ پاکستانی رہائشی کمپنی نہیں تھی۔

جس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان نے بنی گالا اراضی کے لیے بذریعہ بینک رقم بھجوائی تھی جبکہ اراضی کے لیے کچھ رقم عمران خان نے براہ راست بھی ادا کی تھی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جب رقم بینک کے ذریعے بھجوائی گئی تھی تو اس کا ریکارڈ بھی ضرور ہو گا تو وہ منی ٹریل تو عدالت میں پیش کریں۔

نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ یکم رمضان کو ان کے موکل کی سابق اہلیہ جمائمہ خان سے بینک اکاؤنٹس اور دیگر تفصیلات کے حصول کے لیے رابطہ ہوا تھا۔ اُنھوں نے امکان ظاہر کیا کہ جمائمہ خان کی طرف سے جلد دستاویزات مل جائیں گی جو عدالت میں پیش کر دی جائیں گی۔ اُنھوں نے کہا کہ جمائمہ سے دستاویزات کے حصول میں وقت اس لیے لگ رہا ہے کہ دستاویزات پرانی ہیں۔

اس تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس فیصل عرب نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا عمران خان آف شور کمپنی کے شیئر ہولڈر تھے؟ جس پر نعیم بخاری نے نفی میں جواب دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان نے بنی گالا اراضی کے لیے بذریعہ بینک رقم بھجوائی تھی

بینچ کے سربراہ نے عمران خان کے وکیل سے سوال کیا کہ الزام ہے کہ لندن فلیٹس نیازی سروسز لمیٹڈ کی ملکیت تھے اور نیازی سروسز لمیٹڈ پاکستان کی کمپنی نہیں تھی۔ جبکہ جسٹس فیصل عرب نے بھی یہ سوال اُٹھایا کہ کیا جمائمہ خان کو بنی گالہ کی خریداری کے لیے دی گئی رقم کی ادائیگی نیازی سروسز کے اکاوئنٹس سے کی گئی تھی؟

عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے بتایا کہ لندن فلیٹ کی فروخت سے عمران خان کو چھ لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ ملے تھے۔

بینچ میں شامل جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ریکارڈ دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ بنی گالہ میں زمین کی خریداری کے لیے جمائمہ خان نے جو رقم بھجوائی تھی وہ زمین کی قیمت سے زیادہ تھی جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ یہ میاں بیوی کا معاملہ تھا لیکن عدالت کو تمام دستیاب دستاویزات فراہم کر دی جائیں گی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا بنی گالہ کی جائیداد قانونی طریقے سے منتقل کی گئی؟ جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بنی گالہ کی جائیداد جمائمہ خان اور بچوں کے لیے خریدی تھی اور اگر میاں بیوی میں علیحدگی نہ ہوتی تو بنی گالہ کی جائیداد اب بھی جمائمہ خان کے نام پر ہوتی۔

سپریم کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے نیازی سروسز لمیٹڈ کی تفصیلات ایک ہفتے میں فراہم کرنے کی ہدایت کر دی جبکہ پی ٹی آئی کو مبینہ طور پر بیرون ممالک سے ملنے والی ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں الیکشن کمیشن سے پوچھا ہے کہ اگر ایسا ہو تو کون سا فورم اس کی سماعت کرے گا۔

اس کے علاوہ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ اگر جرم ثابت ہو جائے تو اس رقم کو ضبط کرنے کا اختیار کس فورم کے پاس ہو گا۔

ان درخواستوں کی سماعت 31 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں