’حکومت کی فوج کے فنڈز پر سویلین نگرانی کے بارے میں مکمل خاموشی‘

فرحت اللہ بابر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی ذہنیت ہے کہ جو شخص وردی میں ہے وہ محب وطن ہے: فرحت اللہ بابر

پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سینیئر سیاسیتدان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس بجٹ میں ایک مرتبہ پھر افواج پاکستان کے لیے وسائل دل کھول کر دیے ہیں لیکن ان فنڈز پر سویلین نگرانی کے بارے میں مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

بی بی سی اردو کے ہارون رشید کے مطابق منگل کو سینیٹ میں فائینینس بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ کوئی بھی بجٹ کسی حکومت کا سیاسی بیانیہ ہوتا ہے اور اس مرتبہ بھی حکومت نے اس بجٹ کے ذریعے اپنے کئی سیاسی بیانیے واضح کیے ہیں۔

٭ بجٹ 18-2017: ’دفاعی بجٹ میں 79 ارب کا اضافہ‘

٭ 'وردی والا زیادہ محب وطن سمجھا جاتا ہے'

٭ ’حالیہ گمشدگیوں میں حکومت کے لیے اہم پیغام ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ انہیں فوج کے لیے رقم مختص کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور پارلیمان نے اس میں کبھی تردد نہیں کیا۔

'اس غریب عوام نے اپنی حصے کی روزی کو کم کر کے دفاع کے لیے دیے ہیں۔ قوم ہمیشہ تمام وسائل جو مانگے جاتے ہیں دفاع کے لیے دیتی ہے۔ لیکن اس میں سیاسی بیانیہ یہ ہے کہ اس میں شفافیت کی کمی ہے، احتساب کی عدم موجودگی اور سویلین نگرانی کا فقدان ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ'یہ ہمیں قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ یہ اس ایوان کو قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ وہ جتنی رقم مانگتے ہیں آپ دے دیں اور ہم دیتے آ رہے ہیں۔ لیکن خدا کے واسطے اس پورے بجٹ میں ایک شق بھی موجود نہیں اور نہ کوئی خیال شامل کیا گیا ہے کہ اس شفافیت اور احتساب کی کمی اور سویلین نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں۔'

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ بجٹ میں فاٹا اصلاحات سے متعلق رقم مختص نہ کر کے حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دھوکہ تھا۔

'کم از کم دس روپے ہی مختص کر دیتے کہ وسائل کی کمی ہے لیکن اپنی سوچ تو ظاہر کر دیتے۔ اصلاحاتی کمیٹی آپ نے ہی بنائی تھی کابینہ نے اس کی شفارشات کی منظوری دی تو پھر اس کا ہی کوئی بھرم رکھ لیتے۔'

فرحت اللہ بابر کے مطابق ایک اور سیاسی بیانیہ یہ کہ حکومت نے نیشنل کمیشن آن ہیومن رائٹس کی بجائے انسٹیٹیوٹ آف ہیومن رائٹس کے لیے رقم مختص کی ہے جو عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ'یہ انسٹیٹیوٹ اب وزارت برائے حقوق انسانی کے تحت ہوگا۔'

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کو بھی بجٹ میں ہدف بنایا ہے۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ حکومت نے گذشتہ برس سپریم کورٹ کی جانب سے اس فیصلے کے بعد کیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ وزیراعظم کو نہیں بلکہ وفاقی حکومت اور کابینہ کو تمام اختیارات حاصل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فنانس بل کے ذریعے حکومت ایک بورڈ کو تمام انتظامی اختیارات دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان نے حالیہ بجٹ میں دفاع کی مد میں 79 ارب روپے کا اضافہ کیا ہے

بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر طاہر مشہدی کا کہنا تھا کہ حکومت کو قبائلی علاقوں کا علم ہی نہیں کہ وہاں مکان کیسے بنتے ہیں اور خاندان کیسے ہوتے ہیں۔

'بجٹ میں وعدہ کرنا اور بات ہے اور انہیں نبھانا اور بات ہے۔'

ان کا اعتراض تھا کہ حکومت کے اخراجات زیادہ اور آمدن کم ہے۔

سعودی حکومت کی قیادت میں مجوزہ اسلامی فوجی اتحاد پر بحث کے دوران چیئرمین سینیٹ نے حکومت کی جانب سے ایوان کو اعتماد میں نہ لینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بدھ کو جواب طلب کیا ہے۔

انھوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اعظم کے خارجہ امور سے متعلق مشیر سرتاج عزیز کو بدھ کے اجلاس میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

اسی بارے میں