’مائی لارڈ یہ میاں بیوی کا آپس کا معاملہ ہے ‘

عمران خان اور جمائما خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان نے بنی گالا اراضی کے لیے بذریعہ بینک رقم بھجوائی تھی

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ون میں شروع ہوئی تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے عمران خان کے وکیل سے پوچھا کہ کیا وہ عدالت کی جانب سے گذشتہ سماعت کے دوران پوچھے گئے سوالوں کے جواب دینے کو تیار ہیں جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ وہ کوشش کریں گے کہ عدالت کو مطمئن کر سکیں۔

سماعت کے دوران ایک موقع پر جب عدالت نے نعیم بخاری سے پوچھا کہ ان کے موکل کی سابقہ بیوی جمائمہ خان نے بنی گالہ میں خریدی گئی اراضی سے زائد رقم کیوں بھیجی تو ان کا کہنا تھا کہ مائی لارڈ یہ میاں بیوی کا آپس کا معاملہ ہے اور میں کیسے ان سے پوچھ سکتا ہوں کہ انھوں نے زیادہ رقم کیوں بھجوائی ہے؟

عمران خان کو مالی تفصیلات جمع کروانے کے لیے ایک ہفتے کا وقت

سپریم کورٹ: کسی سیاسی جماعت کے غیر قانونی فنڈز کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

'اتنی خاموشی کیوں ہے بھائی۔۔۔'

سماعت کے دوران جب تین رکنی بینچ کی جانب سے عمران خان کے وکیل پر سوالات کی بوچھاڑ کی گئی تو اس کے جواب دیتے ہوئے نعیم بخاری چند ایک سوالوں کے جواب دینا بھول گئے۔ عدالت کی جانب سے جب ان سے دوبارہ پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا 'مائی لارڈز میں ذرا اُونچا سنتا ہوں اس لیے شاید آپ کے سوال سن نہیں پایا جس کے لیے معذرت خوا ہوں۔'

عدالت کی جانب سے عمران خان کے وکیل سے پوچھے گئے سوالات بنی گالہ کی زمین کی خریداری کے لیے منی ٹریل اور عمران خان کی آف شور کمپنی کے بارے میں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان کے وکیل نعیم بغاری

ایک موقع پر عدالت نے نعیم بخاری سے کہا 'بظاہر لگتا ہے کہ بنی گالہ کی زمین کی خریداری کے لیے رقم تھرڈ پارٹی سے آئی ہے اور اگر اُن کے موکل منی ٹریل پیش نہ کرسکے تو قانونی نتائج سے آپ بخوبی واقف ہیں۔'

سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی ٹویٹ کا بھی کافی ذکر رہا جس میں انھوں نے کہا تھا 'جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ میں آگ سے کھیل رہا ہوں اور نا اہل ہوسکتا ہوں تو پاکستان کو کرپشن مافیا سے پاک کرنے کی یہ بہت تھوڑی قیمت ہوگی۔'

حکمراں جماعت کے وکلا کا کہنا تھا کہ عمران خان کو معلوم ہو چکا ہے کہ وہ منی ٹریل پیش نہیں کر سکیں گے اور عدالت انھیں نہ اہل قرار دے دے گی اس لیے وہ اپنی اس خفت کو مٹانے کے لیے ایسے دعوے کر رہے ہیں۔

عمران خان نے ان درخواستوں کے بارے میں جو جواب سپریم کورٹ میں جمع کروایا ہے اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ درخواست گزار (حنیف عباسی) سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں ان سے شکست کھا چکے ہیں لہذا ان درخواستوں کو جرمانے کے ساتھ مسترد کر دیا جائے۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں دونوں جماعتوں کی فرنٹ لائن لیڈر شپ تو نہیں تھی البتہ ان دونوں جماعتوں کےمتعدد ترجمان کورٹ روم نمبر ایک کی نشستوں پر براجمان تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی نا اہلی سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے ارکان بھی اسی طرح متحرک نظر آتے ہیں جس طرح چند ہفتے قبل کبھی پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور کارکن وزیر اعظم میاں نواز اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کے بارے میں درخواستوں کی سماعت کے دوران ہوا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عدالت نے نعیم بخاری سے پوچھا کہ ان کے موکل کی سابقہ بیوی جمائمہ خان نے بنی گالہ میں خریدی گئی اراضی سے زائد رقم کیوں بھیجی؟

عمران خان کے خلاف درخواستوں کی سماعت میں جو سب سے زیادہ متحرک نظر آتے ہیں اُن میں دانیال عزیز اور طلال چوہدری ہیں جو کبھی الیکشن کمیشن میں اور کبھی سپریم کورٹ میں اور کبھی پریس کانفرنس کے لیے پی آئی ڈی میں موجود ہوتے ہیں۔

سماعت کے اختتام پر پاکستان تحریک انصاف کے ایک ترجمان فواد چوہدری اور وزیر مملکت طارق فضل کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

فواد چوہدری نے طارق فضل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا 'جناب آپ دھوپ میں کیوں کھڑے ہیں چھاؤں میں آجائیں تو انھوں نے جواب دیا کہ یہاں پر میڈیا کے لیے ڈائس بنا لیں کیونکہ اگلے چار سال تک انھوں نے یہی پر آنا ہے۔'

پاکستان تحریک انصاف کی مقامی قیادت میڈیا سے بات کرنے کے لیے اپنا ڈائس الگ سے لے کر آئی تھی اور میڈیا ٹاک ختم ہونے کے بعد وہ اپنا ڈائس اپنے ساتھ لے گئے۔

اسی بارے میں