’صوبہ سندھ سے چار افراد کی جبری گمشدگی‘

Image caption بدین میں مظاہرہ

پاکستان کے صوبے سندھ کے ضلع بدین سے چار افراد کی جبری گمشدگی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ پولیس نے ان گمشدگیوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے تاہم ان کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ سادہ کپڑوں میں افراد کے ساتھ پولیس اہلکار اور گاڑیاں بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

جبری گمشدگی کے چاروں واقعات 24 مئی کی شب بدین شہر اور اس کے آس پاس پیش آئے۔ لاپتہ ہونے والے افراد میں رضا جروار، علی احمد بگھیو، شادی خان سومرو اور عبدالعزیز گُرگیز شامل ہیں۔

عبدالعزیز ٹنڈو باگو تحصیل کے گاؤں خدا آباد کے رہائشی ہیں۔ ان کے والد عباس گرگیز نے بی بی سی کو بتایا کہ 24 مئی کی صبح چار بجے پولیس اور سادہ کپڑوں میں اہلکار ان کے گھر داخل ہوئے اور عزیز کو نیند سے اٹھاکر تشدد کیا، جس کے بعد اس کی آنکھوں پر کپڑا ڈال کر گاڑی میں روانہ ہو گئے۔

’میں نے ان سے سوال کیا کہ عزیز کو کیوں لے جا رہے ہو؟ تو انھوں نے کہا کہ یہ ہمارے پاس شنوائی پر نہیں آتا ہے۔‘

عباس گرگیز کا مزید کہنا تھا ’ہمارا کسی بھی سیاسی جماعت سے واسطہ نہیں کیونکہ ہمارا تعلق احمدی برادری سے ہے اور جماعت اس کی اجازت نہیں دیتی ہے۔‘

عباس گرگیج سرکاری ٹیچر ہیں، ان کا بیٹا 35 سالہ عزیز گرگیج خاندان کی تین سے چار ایکڑ زمین سنبھالتا تھا۔ ان کے والد کے مطابق حکام نے ایف ائی آر درج کرنے سے بھی صاف انکار کردیا جس کے بعد انھوں نے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

ٹنڈو باگو تحصیل کے گاؤں جاتی جرورار سے سندھ کے شارٹ سٹوری رائٹر 45 سالہ غلام رضا جروار لاپتہ ہوئے۔

ان کے بھتیجے سلیم جروار نے بتایا کہ ’رات ڈیڑھ بجے کے قریب دس سے 12 اہلکار جن میں کچھ سول کپڑوں میں تھے گھر میں داخل ہوئے اور غلام رضا اور ان کی بیوی پر ہتھیار تان لیے، انھوں نے بعد میں غلام رضا کے ہاتھ باندھ کر سر پر کپڑا ڈالا اور اس کو ساتھ لے گئے جبکہ کمرے میں جو کتابیں، میگزین اور ڈائری وغیرہ تھی وہ بھی ضبط کر لی۔‘

سلیم کے مطابق ان کے چچا کی کسی جماعت سے تنظیمی وابستگی نہیں رہی تاہم ان کا جیے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ سے نظریاتی تعلق تھا۔

سلیم کے مطابق وہ جبری گمشدگی کی ایف ائی آر درج کرانے تھانے پر گئے لیکن ایس ایچ او نے کہا کہ ایس ایس پی کہیں گے تو ایف آئی آر درج ہوگی۔

ان کے بقول جب ایس ایس پی سے رابطہ کیا تو انھوں نے بھی انکار کردیا جس کے بعد ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے۔

اسی طرح نوجوان علی احمد بگھیو بدین سے لاپتہ ہیں۔ ان کے بھائی نور احمد نے کہنا ہے کہ رات کو ساڑھے تین بجے 30 کے قریب لوگ گھر میں داخل ہوئے انھوں نے بھائی کے ساتھ تمام گھر والوں پر تشدد کیا جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔

’اس اچانک کارروائی پر ہم پریشان ہو گئے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا ہم ڈاکو ڈھونڈ رہے ہیں۔ بعد میں بھائی کے ہاتھ اور پیر باندھے اور سر پر کپڑا ڈال کر بکتر بند گاڑی میں لے گئے۔‘

لا پتہ شادی خان سومرو کو بدین سے صرف چند کلو میٹر باہر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

شادی خان کے کزن رحیم سومرو نے کے مطابق رات کو ساڑھے تین بجے ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، ’گھر میں داخل ہو کر اہلکاروں نے سب کو یرغمال بنایا اور شادی خان کا پوچھا اور جب انھیں کمرہ دکھایا گیا تو اہلکاروں نے لات مار کر دروازہ توڑ دیا اور آواز دے کر اسے کہا کہ باہر نکلو وہ جیسے ہی باہر نکلا تو اس پر تشدد کیا بعد میں آنکھیں باندھ کر اپنے ساتھ لے گئے۔‘

دوسری جانب ایس ایس پی بدین قیوم پتافی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان افراد کے رشتے دار کہہ رہے ہیں کہ وہ لاپتہ ہیں تاہم پولیس نے تفتیش نہیں کی۔

ایس ایس پی نے جبری لاپتہ افراد کے رشتے داروں کے ان الزامات کو مسترد کیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اس کارروائی میں پولیس بھی شامل تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس کوئی مقدمہ درج کرانے نہیں آیا ورنہ وہ مقدمہ ضرور درج کرتے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے رضا جروار، علی احمد بگھیو، شادی خان سومرو اور عبدالعزیز گُرگیز کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کارکنوں کی سیاسی وابستگی اور شناخت کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کرنا جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔’

مغویان کی سلامتی اور فوری بازیابی کے متعلق ان کے اہل خانہ کی تشویش تو واضح ہے تاہم ایچ آر سی پی کی تشویش کی خاص وجہ یہ ہے کہ سیاسی کارکنوں کو مختلف دیہاتوں سے ایک منظم انداز میں اٹھایا گیا ہے۔

اسی بارے میں