unseenkashmir#: 'میری ایک بیٹی انڈین ہے اور ایک پاکستانی اور یہی ان کی تقدیر ہے'

وحیدہ قریشی ان خواتین میں سے ایک ہیں جن کا تعلق انڈیا کے زیر کشمیر سے ہے لیکن ان کی شادی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہوئی ہے۔ ان کے مطابق انھیں والدین کی یاد تو ستاتی ہے لیکن فوج کی چیك پوسٹیں، ہڑتالیں، کرفیو، سکولوں کی بندش وغیر جو کپواڑہ میں ایک عام بات تھی، وہ سب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نہیں اور وہ آزاد محسوس کرتی ہیں۔

اس وقت میں محض 20 سال کی تھی جب ان کے ابّا پاکستان سے آئے اور لائن آف کنٹرول پر میرے ابّا سے ملے۔ پھر وہ ہمارے گھر آئے اور اپنے بیٹے کے لیے میرا ہاتھ مانگ لیا۔

’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں شادی نہ کریں‘

شوہر مر گیا مگر خود کشمیر میں پھنس گئیں

میرے شوہر کے والد رشتے میں میرے دادا لگتے ہیں تو ایک طرح سے یہ شادی آپس کی رشتے داری میں ہی ہو رہی تھی۔

اگرچہ اس سے پہلے ہمارے خاندان میں کسی نے پاکستان کی طرف والے کشمیر میں شادی نہیں کی تھی۔ میں وہاں کبھی نہیں گئی تھی۔ ابّا گئے تھے اور بتاتے تھے کہ وہاں ان کے دور کے کتنے ہی رشتہ دار رہتے ہیں۔

Image caption وحیدہ کے مطابق فوج کی چیك پوسٹس،ہڑتالیں،کرفیو،سکولوں کی بندش وغیر جو کپواڑہ میں ایک عام بات تھی وہ سب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نہیں ہے

ابّا نے جو فیصلہ کر دیا اس پر سوال اٹھانے کا مجھے کوئی حق نہیں تھا۔ سب کچھ بہت اچانک ہی ہو گیا۔ میں نہ تو اپنے ہونے والے شوہر سے کبھی ملی تھی اور نہ ہی بات کی تھی۔

جب یہ سب ہوا تو مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ انڈيا کے کشمیر آنا جانا اتنا مشکل ہوگا۔

میں انڈیا کی شہری ہوں اور ویزے کی بنیاد پر مظفر آباد میں رہنے لگی۔

یہاں اقدار مختلف ہیں اور اسلامی طور طریقوں پر یہاں زیادہ شدت سے عمل کیا جاتا ہے۔

یہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے جیسے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے کپواڑہ میں، جہاں میں رہتی تھی، اکثر خواتین برقع نہیں اوڑھتي تھیں تاہم یہاں یہ تقریباً ضروری ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’راستے آسان ہو جاتے تو بچھڑے لوگ مل جاتے‘

زبان، کھانے پینے، رسم و روایات میں کافی فرق ہے لیکن اب عادت پڑ گئی ہے۔ سب کچھ اچھا لگنے لگا ہے۔

ابتدا میں ماں باپ کے بغیر گھبراہٹ ہوتی تھی اور گھر کی بہت یاد آتی تھی۔ کپواڑہ میں ہمارا خاندان بہت پھیلا ہوا ہے اور سبھی گھر نزدیک بنے ہوئے ہیں گویا کہ پورا محلہ ہی ہمارا ہے۔

وہاں میری بہت سی سہیلیاں ہیں۔ لیکن یہاں پر خواتین کے لیے گھر کے اندر ہی رہنے کا رواج ہے۔

شادی سے پہلے میں سکول ترک کر کے اسلامی مدرسے میں پڑھنے لگی تھی۔ پانچ برس تک ریاست مہاراشٹر کے مالیگاؤں کے ایک مدرسے میں اپنی تعلیم مکمل کی پھر ایک مدرسے میں پڑھانا بھی شروع کر دیا تھا۔

یہاں آئی تو فیملی میں لگ گئی اور سب چھوٹ گیا۔ شاید آگے چل کر پھر سے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر سکوں۔

شادی کے تقریبا نو ماہ بعد انڈیا واپس جانے کا موقع ملا تو میں امید سے تھی۔

میری پہلی بیٹی وہیں پیدا ہوئی۔ وہ انڈیا کی شہری ہے۔ دوسری بیٹی یہاں مظفر آباد میں ہوئی۔ وہ پاکستان کی شہری ہے۔ یہی ان کی تقدیر ہے۔ جیسے میری تقدیر میں یہاں بسنا ہے۔

اچھا لگتا ہے کہ یہاں سب اپنی ہی قوم کے لوگ ہیں۔ یہاں آزادی بھی بہت ہے۔ گھر سے باہر نکلنے میں ڈر نہیں لگتا ہے۔

فوج کی چیك پوسٹس، ہڑتالیں، کرفیو، سکولوں کی بندش وغیر وغیرہ جو کپواڑہ میں ایک عام بات تھی، وہ سب یہاں نہیں ہے لیکن ماں باپ سے ملنے کے لیے ویزے اور آنے جانے کی مشکلات بہت ہیں۔

بار بار یہی محسوس ہوتا ہے کہ راستے آسان ہو جاتے تو بچھڑے لوگ مل جاتے۔

کبھی سوچتی ہوں کہ ماں باپ بھی یہیں آ کر بس جائیں تو دکھ یا تکلیف میں ان کا ساتھ ہو۔ میں گھر کی سب سے بڑی ہوں۔

میری شادی سب سے پہلے ہوئی ہے۔ مجھ سے چھوٹے پانچ بھائی بہن پوچھیں گے تو یہی كہوں گي کہ ادھر ہی رہیں، اپنوں کے قریب رہنا ہی بہتر ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں