’آف شور کمپنی کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرنا ایک غلطی تھی‘

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان تحر یک انصاف کے سربراہ کی نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نے تسلیم کیا ہے کہ اُن کے موکل کی طرف سے آف شور کمپنی نیازی سروسز کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرنا ایک غلطی تھی تاہم ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔

بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کے مطابق عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ آف شور کمپنی کا معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے پاس ہے اور جب تک اس کا فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک ان کے موکل کی نااہلی کا معاملہ سپریم کورٹ میں نہیں لایا جا سکتا۔

٭ ’مائی لارڈز کنٹریکٹ یاد کرنا ہے یا فیض‘

٭ ’عمران خان ایک ہفتے میں مالی تفصیلات جمع کروائیں‘

٭ عمران خان کے خلاف نااہلی ریفرنس مسترد

اُنھوں نے کہا کہ اگر اُن کے موکل کی طرف سے ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے یا ٹیکس ادا نہ کرنے کا معاملہ ہوتا تو پھر ان کے موکل کی نااہلی کا معاملہ زیر بحث لایا جا سکتا تھا۔

بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما حنیف عباسی کی طرف سے اثاثے چھپانے پر عمران خان کو نااہل قرار دینے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوان اس تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس فیصل عرب نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آف شور کمپنی کو ظاہر نہ کرنا غلطی ہے جبکہ اس سے پہلے آپ نے موقف اختیار کیا تھا کہ آف شور کمپنی ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا اور اس طرح تو وہ اپنے دلائل کی خود نفی کر رہے ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ آف شور کمپنی بنانے سے ٹیکس بچانے کے علاوہ اور کیا فوائد ہوتے ہیں جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ کمپنی بنانے کا مقصد ’کیپیٹل گین ٹیکس‘ بچانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 2015 میں نیازی سروسز کمپنی خود بخود ختم ہو گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عدالت کے استفسار پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ آف شور کمپنی کا ریکارڈ عام نہیں کیا جاتا

بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ جب نیازی سروسز کی صرف ایک ہی پراپرٹی تھی جو کہ لندن فلیٹ تھی اس کے علاوہ اس میں عمران خان کی بہنوں کا کوئی مفاد نہیں تھا تو پھر اس کو اتنی دیر زندہ کیوں رکھا گیا؟ اس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ چونکہ لندن فلیٹ کا معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت تھا اس لیے اس کمپنی کو زندہ رکھا گیا۔

عدالت کے استفسار پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ آف شور کمپنی کا ریکارڈ عام نہیں کیا جاتا۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکیل سے پوچھا کہ بنی گالہ کی اراضی کی خریداری میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کی سابق اہلیہ جمائمہ خان کی طرف سے جو رقم بھجوائی گئی ہے اس کی منی ٹریل نامکمل ہے تو پھر عدالت اس پر کیسے انحصار کرے جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ جونہی ان کے پاس ثبوت آئیں گے وہ عدالت میں جمع کروا دیں گے۔

اسی بارے میں