فردوس عاشق اعوان: ہاؤس جاب سے پارلیمنٹ ہاؤس تک

فردوس عاشق اعوان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈاکٹر فردوس اعوان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے یہ مقام بغیر کچھ کہے صرف باڈی لینگوئج کے بل بوتے پر حاصل کیا

اگر کسی سیاست دان کے بارے میں بنائے جانے والے کارٹونوں، ٹی وی پر مزاحیہ خاکوں اور مِیمز کو ان کی مقبولیت کا پیمانہ مان لیا جائے تو گذشتہ روز منگل کو پاکستان پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہونے والی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اس وقت چوٹی کی سیاست دان ہیں۔

'ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو کہ جعلی' کے تاریخی جملے سے تعلیم کی اہمیت کو دوام بخشنے والے بلوچستان سے سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم ریئسانی کا نمبر ان کے بہت بعد آتا ہے۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر فردوس اعوان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے یہ مقام بغیر کچھ کہے صرف باڈی لینگوئج کے بل بوتے پر حاصل کیا ہے۔ ایک مقامی ٹی وی چینل پر ڈاکٹر اعوان پر بنائے گئے خاکے اس پروگرام کی کامیابی کا اہم حصہ ہیں۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ انھوں نے یہ مقبولیت اپنے 'بھائی پھیرو' سیاسی سفر کے ابتدائی دنوں میں حاصل کر لی تھی اور پارٹیاں تبدیل کرنے سے اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔ لیکن ڈاکٹر فردوس اعوان کا سیاسی سفر صرف اس کھیل تماشے سے ہی عبارت نہیں ہے بلکہ اس میں متاثر کن کارکردگی اور اہم کامیابیاں بھی شامل ہیں۔

اس سفر کا آغاز 90 کی دہائی کے وسط میں اس وقت ہوا جب وہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد لاہور کے سر گنگا رام ہسپتال میں ہاؤس جاب کر رہی تھیں۔ اس وقت انھوں نے سوسائٹی فار ہیلتھ اینڈ ڈیوپلپمنٹ ایکس چینیج یا ’شیڈ‘ کی بنیاد رکھی جس کا بنیادی مقصد صحت کے شعبے میں عوامی فلاح کا کام تھا۔

شیڈ کا پہلا دفتر سر گنگا رام ہسپتال کے احاطے کے اندر ہی قائم کیا گیا جہاں سے وہاں آنے والے نادار مریضوں کو مفت دوائیں دی جاتی تھیں اور انھیں علاج معالجے کے دیگر اخراجات میں مدد فراہم کی جاتی تھی۔

بعد میں جب سابق صدر جنرل مشرف کے دور میں بلدیاتی اداروں میں خواتین کے لیے مخصوں نشستین بڑھائی گئیں تو وہ مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر اپنے آبائی ضلع سیالکوٹ سے ڈسٹرکٹ کونسل کی رکن منتخب ہوئیں۔

بعد میں 2002 کے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی اسمبلیوں میں وہ اسی پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی رکن بنیں اور ایک محکمے کی پارلیمانی سیکریٹری مقرر ہوئیں۔

تاہم حادثاتی طور پر اسمبلیوں اور میدان سیاست کے میدان میں آنے والی درجنوں دیگر خواتین کے برعکس انھوں نے اپنی اس کامیابی پر اکتفا نہیں کیا اور بھارتی سرحد پر واقع سیالکوٹ کے دیہات میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کر دیا۔

ڈاکٹر فردوس اعوان کی مشکل یہ تھی کہ اس وقت قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری امیر حسین کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا اور وہ بعض مواقع پہ قائم مقام صدر کے طور اسی حلقے میں اپنا دربار لگاتے تھے۔ لیکن وہ کسی رعب و دبدبے میں نہیں آئیں اور بہت دبنگ انداز میں اپنا کام جاری رکھا۔ ایک سیلف میڈ سیاستدان اور خاتون ہونے کے باوجود انھوں نے چودھری امیر حسین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مشکلات نے باوجود ان کے لیے میدان خالی چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یک سیلف میڈ سیاستدان اور خاتون ہونے کے باوجود انھوں نے چودھری امیر حسین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مشکلات نے باوجود ان کے لیے میدان خالی چھوڑنے سے انکار کر دیا

اپنی عوامی سیاست اور ترقیاتی کاموں کے بل بوتے پر انھوں نے حلقے کے عوام میں تو جگہ بنا لی تھی لیکن چودھری امیر حسین کے مقابلے میں ٹکٹ حاصل کرنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا جس کا حل انھوں نے یہ نکالا کہ لندن میں سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو سے ملاقات کی اور مسلم لیگ ق کی رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی سیکریٹری ہوتے ہوئے 2007 کے انتخابات سے پہلے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا۔

جب 2008 میں الیکشن ہوئے ڈاکٹر فردوس اعوان نے چودھری امیر حسین کو بھاری شکست سے دوچار کیا جو ان انتخابات کا ایک بڑا اپ سیٹ تھا۔ پی پی پی حکومت میں وہ پہلے آبادی کی بہبود کی وزیر رہیں جبکہ بعد میں انھیں وزیر اطلاعات بنا دیا گیا۔

جب 2013 کے انتخابات میں پنجاب میں آنے والا پی پی ہی مخالف سیلاب ڈاکٹر فردوس اعوان کی نشست بھی بہا لے گیا تو اسی وقت یہ دکھائی دینے لگا کہ اس لیڈر کا پارٹی کے ساتھ زیادہ دیر تک چلنا مشکل ہے، باوجود اس کے کہ اگر ان کے پاس کوئی سیاسی ترکہ موجود تھا تو وہ ان کے خاندان کی پی ہی ہی کے ساتھ دیرینا ایسوسی ایشن تھا۔ آُن کے بھائی اعجاز اعوان ان کے سیاست میں آنے سے بہت پہلے دو مرتبہ پی پی پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ چکے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نوجوانوں کی جماعت ہےاور اس کا نعرہ بھی تبدیلی کا نعرہ ہے، اس لیے ہو سکتا ہے ڈاکٹر فردوس اعوان کی اصل منزل پاکستان تحریک انصاف ہی ہو۔ کل کیا ہو کس کو معلوم ہے؟

اسی بارے میں